صحیح مسلم حدیث ۴۳۲۲ - غلام کے حقوق اور دوہرا اجر

غلام کے حقوق: اللہ کا حق اور مالک کا حق ادا کرنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۲۲

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَدَّى الْعَبْدُ حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ " ، قَالَ : فَحَدَّثْتُهَا كَعْبًا ، فَقَالَ كَعْبٌ : لَيْسَ عَلَيْهِ حِسَابٌ وَلَا عَلَى مُؤْمِنٍ مُزْهِدٍ ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ (یعنی غلام) اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالکوں کا حق تو اس کو دوہرا ثواب ملے گا۔“ راوی کہتا ہے: میں نے یہ حدیث کعب رضی اللہ عنہ سے بیان کی انہوں نے کہا: اس کا حساب بھی نہ ہو گا (کیونکہ اس کی نیکی بہت ہے اور گناہ کم) اور نہ اس مؤمن کا جو محتاج ہو۔

صحیح مسلم حدیث ۴۳۲۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع غلام کے حقوق اور ذمہ داری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندہ، یعنی غلام، اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالکوں کا حق بھی ادا کرے تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔ اس میں دو باتیں صاف ہیں: ایک اللہ کی عبادت اور حق، دوسری اپنے مالک کے ساتھ ذمہ داری پوری کرنا۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ انسان جس حالت میں بھی ہو، اس کے ذمے جو حق آئے اسے ادا کرے۔ یہاں دوہرا اجر اسی بندے کے لیے بیان ہوا ہے جو دونوں طرف کی ذمہ داری نبھاتا ہے۔ آخر میں راوی نے کعب رضی اللہ عنہ کا قول بھی نقل کیا، مگر اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں بنایا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کا حق ادا کرنا ہر حال میں بنیادی ذمہ داری ہے۔
  • جس کے ذمے لوگوں کے حقوق ہوں، اسے وہ بھی ادا کرنے چاہییں۔
  • حدیث میں دوہرا اجر اسی عمل کے ساتھ بیان ہوا ہے جس میں دونوں حقوق ادا ہوں۔
  • راوی کے قول اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں