صحیح مسلم حدیث ۴۳۶۵ - مظلوم کے اشارے سے قاتل کی پہچان

مظلوم کے اشارے سے قاتل کی پہچان اور قصاص

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۶۵

وحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا قَدْ رُضَّ بَيْنَ حَجَرَيْنِ ، فَسَأَلُوهَا مَنْ صَنَعَ هَذَا بِكِ ؟ فُلَانٌ فُلَانٌ حَتَّى ذَكَرُوا يَهُودِيًّا فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا ، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ ، فَأَقَرَّ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ " .

انس بن مالک روایت:

ایک لونڈی کا سر کچلا ہوا ملا، دو پتھروں میں۔ اس سے پوچھا: کس نے تجھے کچلا۔ فلاں نے؟ یا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا۔ اس نے اشارہ کیا اپنے سر سے۔ وہ یہودی پکڑا گیا۔ اس نے اقرار کیا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اس کا سر کچلنے کے لیے پتھر سے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۳۶۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک لونڈی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا ہوا ملا۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ کس نے کیا؟ مختلف نام لیے گئے، یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا۔ اس نے اپنے سر کے اشارے سے بتایا کہ وہی شخص ہے۔ پھر وہ یہودی پکڑا گیا اور اس نے اقرار کیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچلا جائے۔ اس روایت میں قصاص کی حدیث کا اہم پہلو یہ ہے کہ مظلوم کی بات کو، چاہے وہ اشارے سے ہو، نظر انداز نہیں کیا گیا۔ ساتھ ہی مجرم کے اقرار کا ذکر بھی موجود ہے۔ اس لیے حدیث میں تحقیق، اقرارِ جرم اور قصاص تینوں پہلو سامنے آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مظلوم کے اشارے کو سنجیدگی سے لیا گیا۔
  • ملزم کے اقرار کے بعد قصاص کا حکم دیا گیا۔
  • جرم کی تحقیق کے بغیر فیصلہ نہیں کیا گیا۔
  • قتل کے معاملے میں انصاف کو نمایاں کیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں