صحیح مسلم حدیث ۴۴۴۱ - رجم کی حدیث اور عدل کا حکم
رجم کی حدیث: ثابت شدہ حد کا مختصر بیان
صحیح مسلم : ۴۴۴۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۴۱
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُبِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلَى قَوْلِهِ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُجِمَ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ نُزُولِ الْآيَةِ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۴۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ پچھلی روایت اسی سند سے بھی مروی ہے۔ متن میں یہ بات آئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا، پھر اس شخص کو رجم کیا گیا۔ یہاں اصل توجہ رجم کی حدیث اور حد زنا کے ثابت ہونے پر ہے، مگر روایت میں صرف اتنا حصہ نقل کیا گیا ہے اور بعد میں آیت کے نزول والی بات ذکر نہیں کی گئی۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے ہوئے یہ سمجھنا چاہیے کہ روایت کا مقصد ایک ہی واقعے یا حکم کی سندی تائید ہے، نہ کہ کوئی نیا مستقل واقعہ بیان کرنا۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ جب شرعی حد ثابت ہو جائے تو فیصلہ ذاتی غصے یا جذبات کے بجائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حد کے معاملے میں فیصلہ ثابت شدہ روایت اور حکم کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
- روایت کے الفاظ جتنے نقل ہوں، بات بھی اسی حد تک رکھی جائے۔
- سندی تائید حدیث کے فہم میں اہم ہوتی ہے، مگر اس سے نئی تفصیل خود سے نہیں نکالی جاتی۔
