صحیح مسلم حدیث ۴۴۴۲ - اسلمی اور یہودی پر رجم کا حکم

رجم کی حدیث: اسلمی شخص اور یہودی جوڑے کا واقعہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۴۲

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ وَرَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ وَامْرَأَتَهُ " ،

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلم کے ایک شخص کو رجم کیا اور یہود میں سے ایک مرد اور عورت کو۔

صحیح مسلم حدیث ۴۴۴۲ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلم کے ایک شخص کو رجم کیا اور یہود میں سے ایک مرد اور عورت کو بھی رجم کیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع رجم کی حدیث اور حد زنا کا بیان ہے۔ متن میں جو بات صاف طور پر موجود ہے وہ یہ ہے کہ حکم صرف ایک قوم یا طبقے کے لیے نہیں تھا، بلکہ جن افراد کا معاملہ ثابت ہوا، ان پر فیصلہ نافذ کیا گیا۔ اس وضاحت میں ہمیں متن سے آگے بڑھ کر کوئی نیا پس منظر نہیں جوڑنا چاہیے۔ آسان لفظوں میں یہ حدیث بتاتی ہے کہ شرعی حد کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے، اور جب وہ ثابت ہو جائے تو فیصلہ عدل کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہاں زنا کی حد، رجم کا حکم، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ اصل مرکزی نکات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شرعی حد کے معاملے میں افراد کے نام یا قوم نہیں، ثابت شدہ جرم دیکھا جاتا ہے۔
  • رجم کا ذکر اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے طور پر آیا ہے۔
  • حدود کے مسئلے میں بات کو روایت کے الفاظ تک محدود رکھنا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں