صحیح مسلم حدیث ۴۴۵۱ - صحت یابی تک حد مؤخر کرنے کی روایت
حد میں رعایت: صحت یابی تک انتظار کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۴۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۵۱
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ السُّدِّيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ ، وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ اتْرُكْهَا حَتَّى تَمَاثَلَ .
وہی جو اوپر گزرا۔ اتنا زیادہ ہے کہ ”میں اس کو چھوڑ دیتا ہوں جب تک وہ اچھی ہو۔“ (یعنی نفاس سے صاف ہو یہی حکم ہے مریضہ کا اس کو بھی حد نہ ماریں گے جب تک تندرست نہ ہو)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۴۵۱ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث ہی کے مضمون کو بیان کرتی ہے، مگر اس میں ایک اہم اضافہ ہے: “اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ اچھی ہو جائے۔” یعنی جب لونڈی نفاس کی حالت میں تھی اور فوراً کوڑے لگانے سے جان کا اندیشہ تھا تو اسے اس وقت تک چھوڑنے کی بات آئی جب تک وہ سنبھل نہ جائے۔ اس حدیث کا اصل موضوع حد میں رعایت ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ روایت حد کو ختم کرنے کی بات نہیں کر رہی، بلکہ اس خاص حالت میں فوری نفاذ کو مؤخر کرنے کی بات کر رہی ہے۔ عام فہم انداز میں یہ حدیث بتاتی ہے کہ شرعی سزا کے معاملے میں بھی انسان کی موجودہ حالت دیکھی گئی۔ جس وقت جان کا خطرہ ہو، وہاں احتیاط کو اچھا سمجھا گیا۔ اس روایت میں نفاس، حد، اور صحت یابی تک انتظار کے الفاظ مرکزی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نفاس والی کمزور حالت میں حد فوراً نافذ نہیں کی گئی۔
- روایت میں صحت یابی تک انتظار کا اضافہ آیا ہے۔
- احتیاط کا مقصد جان کے خطرے سے بچنا تھا، نہ کہ حکم کو ختم کرنا۔
