صحیح مسلم حدیث ۴۴۵۲ - شراب پینے پر چالیس اور اسی کوڑے
شراب کی حد: چالیس سے اسی کوڑوں تک کا بیان
صحیح مسلم : ۴۴۵۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۵۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ ، فَجَلَدَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ أَرْبَعِينَ " ، قَالَ : وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ اسْتَشَارَ النَّاسَ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : أَخَفَّ الْحُدُودِ ثَمَانِينَ ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ ،
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دو چھڑیوں سے چالیس مار ماریں اور ایسا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کیا۔ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ ہوا تو انہوں نے لوگوں سے مشورہ لیا۔ عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: سب حدوں میں ہلکی اسّی کوڑے ہیں (یعنی حد قذف جو قرآن میں وارد ہے) پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسّی کوڑوں کا حکم دیا (شرابی کے لیے)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۴۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو چھڑیوں سے تقریباً چالیس ماریں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا۔ پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں انہوں نے لوگوں سے مشورہ کیا، تو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سب حدوں میں ہلکی حد اسی کوڑے ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑوں کا حکم دیا۔ اس روایت کا اصل موضوع شراب کی حد ہے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل، ابوبکر رضی اللہ عنہ کا عمل، اور عمر رضی اللہ عنہ کا مشورے کے بعد فیصلہ بیان ہوا ہے۔ متن سے یہی سمجھ آتا ہے کہ شراب نوشی کے معاملے کو سنجیدہ لیا گیا اور سزا کا عملی طریقہ ذکر کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شراب پینے والے پر سزا کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے آیا ہے۔
- سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح عمل کیا۔
- سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشورے کے بعد اسی کوڑوں کا حکم دیا۔
