صحیح مسلم حدیث ۴۵۱۷ - فاضل سواری اور توشہ بانٹنے کا حکم
ایثار کی حدیث: زائد سواری اور توشہ ضرورت مند کو دو
صحیح مسلم : ۴۵۱۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۱۷
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ لَهُ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَصْرِفُ بَصَرَهُ يَمِينًا وَشِمَالًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ ، وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ " ، قَالَ : فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَكَرَ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ .
ابو سعید خدری روایت:
ہم سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اتنے میں ایک شخص اونٹنی پر سوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس فاضل سواری ہو وہ اس کو دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس فاضل توشہ ہو وہ اس کو دیدے جس کے پاس توشہ نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی قسم کے مال بیان کیے یہاں تک کہ ہم یہ سمجھے کہ ہم میں سے کسی کا حق نہیں ہے اس مال میں جو اس کی حاجت سے فاضل ہو۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سفر کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ ایک شخص اونٹنی پر آیا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس فاضل سواری ہو، وہ اسے اس شخص کو دے جس کے پاس سواری نہیں، اور جس کے پاس زائد توشہ ہو، وہ اسے اس شخص کو دے جس کے پاس توشہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کی کئی قسموں کا ذکر کیا، یہاں تک کہ صحابہ نے سمجھا کہ ضرورت سے زائد مال میں کسی کا خاص حق نہیں رہتا۔ اس حدیث کا مرکزی سبق ایثار، مدد، سفر میں تعاون اور ضرورت مند کا خیال ہے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنی حاجت سے زائد چیز کو صرف اپنے لیے نہ روکے، بلکہ جسے ضرورت ہو اس کے کام آئے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زائد سواری ضرورت مند کو دی جا سکتی ہے۔
- زائد توشہ رکھنے والا بے توشہ شخص کی مدد کرے۔
- سفر میں ایک دوسرے کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
