صحیح مسلم حدیث ۴۵۲ - کیا قیامت کے دن رب کو دیکھیں گے؟
کیا قیامت کے دن رب کو دیکھا جائے گا؟ روایت کا خلاصہ
صحیح مسلم : ۴۵۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، أن أبا هريرة أخبرهما ، أن الناس ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ .
عطاء بن یزید لیثی اور سیدنا ابو ہریرہ روایت:
لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھ سکیں گے؟ باقی ابراہیم بن سعد والی روایت کے ہم معنی بیان کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۲ کا خلاصہ
اس روایت میں عطاء بن یزید لیثی اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی گئی کہ لوگوں نے نبی صلى الله عليه وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھ سکیں گے؟ پھر حدیث کو ابراہیم بن سعد والی روایت کے ہم معنی بیان کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ روایت اسی بڑے مضمون سے جڑی ہے جس میں قیامت، دیدارِ رب، لوگوں کا جمع ہونا، صراط اور شفاعت کے مراحل بیان ہوئے ہیں۔ چونکہ یہاں مکمل تفصیل نہیں بلکہ “ہم معنی” کا اشارہ ہے، اس لیے وضاحت میں بھی اسی حد کو سامنے رکھنا چاہیے۔ اصل سبق یہ ہے کہ صحابہؓ نے آخرت کے اہم سوالات نبی صلى الله عليه وسلم سے پوچھے اور جواب کو روایت کے طور پر محفوظ کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن رب کو دیکھنے کا سوال صحابہؓ نے نبی صلى الله عليه وسلم سے کیا۔
- روایت میں پہلے بیان شدہ مفصل حدیث کے معنی کی طرف اشارہ ہے۔
- عقیدے کے مسائل میں روایت کی اصل عبارت اور سند کا خیال رکھنا چاہیے۔
