صحیح مسلم حدیث ۴۵۳ - سب سے کم درجے کے جنتی کی آرزوئیں
سب سے کم درجے کے جنتی کو کیا ملے گا؟
صحیح مسلم : ۴۵۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۳
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَدْنَى مَقْعَدِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ، أَنْ يَقُولَ : لَهُ تَمَنَّ ، فَيَتَمَنَّى ، وَيَتَمَنَّى ، فَيَقُولُ لَهُ : هَلْ تَمَنَّيْتَ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيَقُولُ لَهُ : فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ " .
ہمام بن منبہ روایت:
یہ وہ حدیثیں ہیں جو بیان کیں، ہم سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور بیان کیا کئی حدیثوں کو، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سب سے کم درجے کا جنتی تم میں جو ہو گا اس سے کہا جائے گا: آرزو کر، وہ آرزو کرے گا پھر اس سے کہا جائے تو آرزو کر چکا ہے، وہ کہے گا ہاں۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: تجھے یہ سب آرزوئیں دیں اور اتنی ہی اور۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل ہوا کہ تم میں سے جنت میں سب سے کم درجے والے کو کہا جائے گا: آرزو کر۔ وہ آرزو کرے گا، پھر دوبارہ آرزو کرے گا۔ جب وہ کہے گا کہ میں آرزو کر چکا ہوں، تو اسے کہا جائے گا کہ تیرے لیے وہ سب ہے جو تو نے چاہا، اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی۔ یہ حدیث جنت کی نعمتوں اور اللہ کی عطا کو بہت سادہ انداز میں بیان کرتی ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ متن صرف “سب سے کم درجے کے جنتی” کے بارے میں ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی پر رکنی چاہیے۔ یہ روایت بندے کے دل میں اللہ کی رحمت کی امید پیدا کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنت میں اللہ تعالیٰ کی عطا بندے کی آرزوؤں سے بھی بڑھ کر ہو گی۔
- حدیث خاص طور پر سب سے کم درجے کے جنتی کا ذکر کرتی ہے۔
- آخرت کی نعمتوں کا یقین انسان کے دل میں امید پیدا کرتا ہے۔
