صحیح مسلم حدیث ۴۵۲۰ - بنی مصطلق کے واقعے کی دوسری روایت

بنی مصطلق کی حدیث: دعوت قبل القتال کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۲۰

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍبِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَلَمْ يَشُكَّ .

ابن عون روایت:

ابن عون سے بھی مذکورہ بالا حدیث اس سند سے مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۵۲۰ کا خلاصہ

یہ حدیث پچھلی روایت ہی کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں ابن عون کے واسطے سے وہی بات نقل ہوئی کہ نافع سے لڑائی سے پہلے دعوت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ جواب میں بنی مصطلق کے واقعے کا ذکر آیا۔ اس روایت میں جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا نام بغیر شک کے آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ راویوں نے الفاظ اور نام کے فرق کو بھی امانت کے ساتھ نقل کیا۔ اس حدیث کا مقصد کوئی عام جذباتی بات نہیں، بلکہ ایک خاص سوال، ایک خاص جواب اور ایک تاریخی واقعہ بیان کرنا ہے۔ اس لیے اسے سمجھتے وقت صرف وہی بات کہنی چاہیے جو روایت میں ہے: دعوت قبل القتال کا سوال، شروع اسلام کا ذکر، بنی مصطلق کا واقعہ، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی شہادت کہ وہ اس لشکر میں تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک ہی واقعہ مختلف سندوں سے نقل ہو سکتا ہے۔
  • راویوں نے نام اور الفاظ کی وضاحت کو امانت سے بیان کیا۔
  • خاص تاریخی روایت کو اسی کے الفاظ اور سیاق تک محدود رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں