صحیح مسلم حدیث ۴۵۵ - پل صراط بال سے باریک، تلوار سے تیز
پل صراط، جنت کی عطا اور ابو سعیدؓ کا بیان
صحیح مسلم : ۴۵۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۵
قَالَ مُسْلِم : قَرَأْتُ عَلَى عِيسَى بْنِ حَمَّادٍ زُغْبَةَ الْمِصْرِيِّ ، هَذَا الْحَدِيثَ فِي الشَّفَاعَةِ ، وَقُلْتُ لَهُ : أُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْكَ ، أَنَّكَ سَمِعْتَ مِنَ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ لِعِيسَى بْنِ حَمَّادٍ : أَخْبَرَكُمُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَرَى رَبَّنَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ إِذَا كَانَ يَوْمٌ صَحْوٌ ؟ قُلْنَا : لَا " ، وَسُقْتُ الْحَدِيثَ حَتَّى انْقَضَى آخِرُهُ وَهُوَ نَحْوُ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ : بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ وَلَا قَدَمٍ قَدَّمُوهُ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : لَكُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمِثْلُهُ مَعَهُ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : بَلَغَنِي أَنَّ الْجِسْرَ ، أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرَةِ وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ ، فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ وَمَا بَعْدَهُ ، فَأَقَرَّ بِهِ عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ .
ابو سعید خدری روایت:
دوسری روایت بھی سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی ہے، اس میں یہ ہے کہ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے مالک کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کو کچھ حرج ہوتا ہے سورج کے دیکھنے میں جب صاف دن ہو؟“ ہم نے کہا: نہیں، اور بیان کیا حدیث کو اخیر تک، اتنا زیادہ ہے اس عبارت کے بعد، ان کو اللہ نے جنت دی بغیر کسی عمل یا بھلائی کے۔”ان سے کہا جائے گا: جو تم دیکھو وہ تمہار ہے۔“ اور اتنا اور ہے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے یہ حدیث پہنچی کہ پل، بال سے زیادہ باریک ہو گا اور تلوار سے زیادہ تیز ہو گا۔ اور لیث کی روایت میں یہ نہیں کہ ”وہ کہیں گے: اے رب ہمارے! تو نے ہم کو وہ دیا جو سارے جہان والوں میں کسی کو نہیں دیا۔ اور جو اس کے بعد ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۵۵ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی بڑے مضمون کو بیان کرتی ہے جس میں قیامت کے دن رب کو دیکھنے، صراط، شفاعت اور دوزخ سے نکالے جانے والوں کا ذکر ہے۔ اس روایت میں یہ اضافہ بھی آیا کہ جنہیں اللہ نے جنت دی، ان سے کہا جائے گا کہ جو تم دیکھو وہ تمہارا ہے، اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور۔ سیدنا ابو سعیدؓ سے یہ بھی منقول ہے کہ انہیں خبر پہنچی کہ پل بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہو گا۔ چونکہ حدیث خود “مجھے یہ حدیث پہنچی” کے الفاظ کے ساتھ یہ بات نقل کرتی ہے، اس لیے اسے اسی احتیاط کے ساتھ بیان کرنا چاہیے۔ اصل پیغام آخرت کی سختی، اللہ کی رحمت اور جنت کی عظیم عطا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن صراط کا مرحلہ بہت سخت بیان ہوا ہے۔
- جنت میں داخل کیے گئے لوگوں کو بڑی عطا دی جائے گی۔
- روایت کے الفاظ میں جو اضافہ جس انداز سے آیا ہو، اسے اسی انداز سے نقل کرنا چاہیے۔
