صحیح مسلم حدیث ۴۵۸ - نہرِ حیات میں دوبارہ تازگی
نہرِ حیات: دوزخ سے نکلنے والوں کی نئی تازگی
صحیح مسلم : ۴۵۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۸
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ . ح وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَا : فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالَ لَهُ : الْحَيَاةُ ، وَلَمْ يَشُكَّا ، وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ : كَمَا تَنْبُتُ الْغُثَاءَةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ ، وَفِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ : كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِئَةٍ ، أَوْ حَمِيلَةِ السَّيْلِ .
عمرو بن یحییٰ روایت:
ان کو نہر حیاۃ میں ڈالا جائے گا اس روایت میں راوی کو شک نہیں۔ خالد کی حدیث میں یہ لفظ ہیں کہ دانہ کی بجائے کوڑا کرکٹ کے اگنے کا ذکر آیا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۸ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو مزید الفاظ کے فرق کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ عمرو بن یحییٰ کی سند سے آیا کہ ان لوگوں کو ایک نہر میں ڈالا جائے گا جسے “الحیات” کہا جاتا ہے، اور اس روایت میں راوی نے شک نہیں کیا۔ خالد کی روایت میں دانے کے بجائے کوڑا کرکٹ کے کنارے اگنے کی مثال کا ذکر ہے، جبکہ دوسری روایت میں سیلاب کی کیچڑ یا بہاؤ کے کنارے دانے کے اگنے کی بات آئی۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ دوزخ سے نکالے جانے والے لوگ اللہ کے حکم سے پھر تازہ کیے جائیں گے۔ اس میں نہرِ حیات، ایمان والوں کی نجات، اور روایت کے الفاظ کے فرق کا صاف بیان ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں نہرِ حیات کا لفظ شک کے بغیر آیا ہے۔
- دوزخ سے نکالے گئے لوگوں کی حالت بدلنے کی مثال دانے کے اگنے سے دی گئی ہے۔
- روایت کے مختلف الفاظ کو امانت سے الگ الگ بیان کرنا چاہیے۔
