صحیح مسلم حدیث ۴۵۸۳ - نبی صلى الله عليه وسلم کا مال صدقہ ہے

نبی صلى الله عليه وسلم کا مال صدقہ: وارث دینار تقسیم نہیں کریں گے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۸۳

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي ، فَهُوَ صَدَقَةٌ " ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے وارث ایک دینار بھی بانٹ نہیں سکتے۔ جو چھوڑ جاؤں اپنی عورتوں کے خرچ کے بعد اور منتظم کی اجرت کے بعد بچے تو وہ صدقہ ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۵۸۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبوی مال اور صدقہ کا صاف حکم بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میرے وارث ایک دینار بھی تقسیم نہیں کریں گے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے وضاحت فرمائی کہ جو کچھ میری ازواج کے خرچ اور میرے عامل یعنی انتظام کرنے والے کی ضرورت کے بعد بچے، وہ صدقہ ہے۔ اس سے حدیث کا موضوع واضح ہے: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے چھوڑے ہوئے مال کو عام وراثت کی طرح تقسیم نہیں کیا جائے گا۔ یہاں بات صرف اسی خاص نبوی حکم کی ہے جو حدیث میں آیا ہے۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اہل خانہ کے ضروری خرچ اور انتظامی ضرورت کا خیال رکھا گیا، پھر باقی مال صدقہ کے طور پر رکھا گیا۔ فدک، خیبر اور نبوی صدقہ سے متعلق تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت اصل متن کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے مال کے بارے میں خاص حکم حدیث میں بیان ہوا ہے۔
  • اہل خانہ کے ضروری خرچ کا ذکر بھی اسی حکم میں موجود ہے۔
  • انتظام کرنے والے کی اجرت کو بھی ضرورت کے طور پر مانا گیا۔
  • باقی مال کو صدقہ قرار دیا گیا، ذاتی تقسیم نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں