صحیح مسلم حدیث ۴۵۸۶ - غنیمت میں گھوڑے کا حصہ
مال غنیمت کی تقسیم: گھوڑے کے دو حصے اور آدمی کا ایک حصہ
صحیح مسلم : ۴۵۸۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۸۶
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُلَيْمٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَسَمَ فِي النَّفَلِ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا " ،
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت کے مال سے دو حصہ گھوڑے کو دلائے اور ایک حصہ آدمی کو۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مال غنیمت کی تقسیم ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے غنیمت کے مال میں گھوڑے کے لیے دو حصے اور آدمی کے لیے ایک حصہ مقرر فرمایا۔ روایت میں صرف تقسیم کا یہ اصول بیان ہوا ہے، اس لیے شرح بھی اسی حد تک رہنی چاہیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگی انتظام میں سواری، خاص طور پر گھوڑے کی عملی اہمیت کو تقسیم میں شمار کیا گیا۔ ایک مجاہد خود بھی حصہ پاتا تھا اور اس کے گھوڑے کے لیے الگ حصہ مقرر ہوا۔ یہ حدیث غنیمت کے حصے، گھوڑے کا حصہ، اور اسلامی تقسیم مال جیسے الفاظ سے تلاش کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ تقسیم اندازے یا جذبات سے نہیں، بلکہ مقرر طریقے کے مطابق ہوتی تھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال غنیمت کی تقسیم مقرر اصول کے مطابق کی گئی۔
- گھوڑے کی جنگی ضرورت کو الگ حصہ دے کر مانا گیا۔
- آدمی کے لیے ایک حصہ اور گھوڑے کے لیے دو حصے بیان ہوئے۔
- مالی تقسیم میں نظم اور واضح قاعدہ ضروری ہے۔
