صحیح مسلم حدیث ۴۵۹۰ - ثمامہ بن اثال کی دوسری روایت
ثمامہ بن اثال حدیث: الفاظ کے فرق کے ساتھ وہی واقعہ
صحیح مسلم : ۴۵۹۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۹۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا لَهُ نَحْوَ أَرْضِ نَجْدٍ ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ الْحَنَفِيُّ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ سوائے اس کے کہ اس نے کہا: ”اگر تم مجھے قتل کرو گے تو ایک طاقتور آدمی کو قتل کرو گے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۵۹۰ کا خلاصہ
یہ روایت ثمامہ بن اثال کے اسی واقعے کی دوسری نقل ہے۔ اس میں اصل قصہ وہی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سوار نجد کی طرف گئے، ثمامہ بن اثال کو لائے، وہ اہل یمامہ کے سردار تھے، اور پھر نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کے ساتھ گفتگو کی۔ فرق یہ بیان ہوا کہ اس نقل میں ثمامہ کے جواب کے الفاظ میں یہ بات آئی کہ اگر تم مجھے قتل کرو گے تو ایک طاقتور آدمی کو قتل کرو گے۔ باقی واقعہ پچھلی روایت کے مطابق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے متن میں کبھی کسی لفظ کا فرق ہو سکتا ہے، مگر اصل واقعہ محفوظ رہتا ہے۔ ثمامہ بن اثال کا اسلام، قیدی سے حسن سلوک، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی نرمی اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسی واقعے کی روایت میں الفاظ کا فرق محفوظ کیا گیا۔
- ثمامہ بن اثال اہل یمامہ کے سردار تھے۔
- روایت میں قیدی سے گفتگو اور معاملہ کرنے کا انداز بیان ہوا۔
- الفاظ کے فرق کو سمجھ کر ہی حدیث نقل کرنی چاہیے۔
