صحیح مسلم حدیث ۴۵۹۱ - اسلام کی دعوت اور زمین کا حکم
اسلام قبول کرو سلامت رہو: یہودیوں کو دعوت کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۵۹۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۹۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَاهُمْ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا ، فَقَالُوا : قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَلِكَ أُرِيدُ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا ، فَقَالُوا : قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَلِكَ أُرِيدُ ، فَقَالَ لَهُمْ : الثَّالِثَةَ فَقَالَ : اعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
ہم مسجد میں بیٹھے تھے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”یہودیوں کے پاس چلو۔“ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے یہاں تک کہ یہود کے پاس پہنچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ان کو پکارا اور فرمایا: ”اے یہود کے لوگو! مسلمان ہو جاؤ۔“ انہوں نے کہا: آپ نے پیغام پہنچا دیا (اللہ تعالیٰ کا) اے ابوالقاسم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہی چاہتا ہوں۔“پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے یہودیو! مسلمان ہو جاؤ۔ وہ کہنے لگے آپ نے پیغام پہنچا دیا اے ابوالقاسم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ چاہتا ہوں“ (کہ تم اقرار کرو اللہ کے پیغام پہنچ جانے کا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار یہی کہا اور فرمایا: ”جان لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم کو اس ملک سے باہر نکالوں تو جو شخص اپنے مال کو بیچ سکے وہ بیچ ڈالے اور نہیں تو یہ سمجھ لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۵۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع دعوت اسلام اور زمین کے معاملے کا اعلان ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ مسجد میں بیٹھے تھے، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ یہودیوں کے پاس چلو۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے وہاں جا کر انہیں پکارا: اے یہود کے لوگو، مسلمان ہو جاؤ، سلامت رہو گے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے پیغام پہنچا دیا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں یہی چاہتا ہوں۔ یہ بات تین مرتبہ ہوئی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے، اور آپ انہیں اس زمین سے نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں؛ جو اپنا مال بیچ سکتا ہے، بیچ لے۔ اس روایت کو اسی تاریخی واقعے تک محدود سمجھنا چاہیے، کیونکہ متن اسی مخصوص خطاب کو بیان کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے پہلے صاف الفاظ میں اسلام کی دعوت دی۔
- پیغام پہنچنے کا اقرار روایت میں تین بار آیا۔
- مال بیچنے کا موقع دینے کا ذکر بھی حدیث میں ہے۔
- روایت ایک خاص تاریخی خطاب کو بیان کرتی ہے، عام بدزبانی نہیں۔
