صحیح مسلم حدیث ۴۵۹۴ - جزیرہ عرب کا حکم

جزیرہ عرب کی حدیث: یہود و نصاریٰ کے بارے میں خاص حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۹۴

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ ، وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حَتَّى لَا أَدَعَ إِلَّا مُسْلِمًا " ،

عمر بن خطاب روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”البتہ نکال دوں گا یہود اور نصاریٰ کو عرب کے جزیرہ سے۔ یہاں تک کہ نہیں رہنے دوں گا اس میں مگر مسلمانوں کو۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۵۹۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع جزیرہ عرب سے متعلق ایک خاص نبوی حکم ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو فرماتے سنا کہ میں یہود اور نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکال دوں گا، یہاں تک کہ اس میں مسلمانوں کے سوا کسی کو نہ رہنے دوں گا۔ روایت میں بات ایک خاص جغرافیائی خطے، یعنی جزیرہ عرب، اور ایک خاص شرعی و سیاسی حکم کے طور پر آئی ہے۔ اس متن میں کسی عام غیر مسلم فرد کے ساتھ بدسلوکی کی اجازت بیان نہیں ہوئی، اس لیے بات کو اسی الفاظ اور حدود میں سمجھنا چاہیے۔ جو لوگ جزیرہ عرب حدیث، یہود و نصاریٰ کو نکالنے کی حدیث، یا لا أدع إلا مسلما تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت بنیادی متن ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں جزیرہ عرب کے بارے میں خاص حکم بیان ہوا۔
  • روایت کے الفاظ کو عمومی نفرت کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
  • یہ حکم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے بیان کردہ الفاظ تک محدود رکھا جائے۔
  • دینی نصوص کو ان کے اصل متن کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں