صحیح مسلم حدیث ۴۵۹۳ - بنی قریظہ روایت کی تائید
بنی قریظہ اور بنی نضیر: مختصر تائیدی روایت
صحیح مسلم : ۴۵۹۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۹۳
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَكْثَرُ وَأَتَمُّ .
موسیٰ نے ان سندوں کے ساتھ یہ حدیث روایت کی اور ابن جریج کی روایت واضح اور مکمل ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۹۳ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی روایت کے ساتھ متعلق ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ موسیٰ نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث روایت کی، جبکہ ابن جریج کی روایت زیادہ واضح اور مکمل ہے۔ اس لیے اس حدیث کا موضوع بھی بنی نضیر، بنی قریظہ اور مدینہ کے یہود کے واقعات ہی ہیں، مگر یہاں نئی تفصیل بیان نہیں ہوئی۔ اس طرح کی مختصر روایات حدیث کے باب میں اہم ہوتی ہیں، کیونکہ وہ بتاتی ہیں کہ ایک مضمون مختلف راویوں سے نقل ہوا۔ مگر عام قاری کے لیے ضروری ہے کہ اس مختصر متن سے زائد دعوے نہ نکالے جائیں۔ جو لوگ بنی قریظہ حدیث، بنی نضیر کی جلاوطنی، یا مدینہ کے یہود کی روایت تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ نقل اصل واقعے کی سندی تائید کے طور پر سامنے آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت اسی واقعے کی تائید کے طور پر آئی ہے۔
- اس میں ابن جریج کی روایت کو زیادہ مکمل کہا گیا۔
- مختصر متن سے نئی تفصیل خود نہیں بنانی چاہیے۔
- حدیث سمجھنے میں روایت کے الفاظ اور سند دونوں اہم ہیں۔
