صحیح مسلم حدیث ۴۵۹۶ - سعد بن معاذ کا فیصلہ
سعد بن معاذ کا فیصلہ: بنی قریظہ کے بارے میں حکم
صحیح مسلم : ۴۵۹۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۹۶
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، وقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : " نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ فَأَتَاهُ عَلَى حِمَارٍ ، فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ : " قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ ، قَالَ : تَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَتَسْبِي ذُرِّيَّتَهُمْ ، قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ ، وَرُبَّمَا قَالَ : قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَرُبَّمَا قَالَ : قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ " ،
ابو سعید خدری روایت:
قریظہ کے یہودی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلہ پر اترے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا۔ وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، جب مسجد کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا: ”اٹھو اپنے سردار کی طرف یا اپنی قوم کے بہتر شخص کی طرف۔“ پھر فرمایا کہ ”یہ لوگ بنی قریظہ کے تمہارے فیصلہ پر اترے ہیں۔“قلعہ سے) سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ان میں جو لڑائی کے لائق ہیں ان کو تو قتل کیجئیے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قید کیجئیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق یا بادشاہ (اللہ تعالیٰ) کے حکم کے موافق یا فرشتے سیدنا جبرئیل کے حکم کے موافق (جیسا وہ اللہ کی طرف سے لایا تھا) فیصلہ کیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۵۹۶ کا خلاصہ
اس روایت کا اصل موضوع سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہے۔ بنی قریظہ کے لوگ ان کے حکم پر اترے، تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو بلایا۔ وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب مسجد کے قریب پہنچے تو نبی صلى الله عليه وسلم نے انصار سے فرمایا کہ اپنے سردار، یا اپنی قوم کے بہتر شخص، کی طرف اٹھو۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ یہ لوگ تمہارے فیصلے پر اترے ہیں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا کہ لڑنے والوں کو قتل کیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو قید کیا جائے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا۔ یہ روایت خاص جنگی واقعے اور قبول شدہ ثالثی کے بارے میں ہے، اسے اس کے تاریخی متن سے الگ کر کے نہیں پڑھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بنی قریظہ نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو قبول کیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کی عزت کا اظہار فرمایا۔
- فیصلہ مخصوص جنگی معاملے سے متعلق تھا۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فیصلے کو اللہ کے حکم کے مطابق فرمایا۔
