صحیح مسلم حدیث ۴۵۹۸ - خندق کے بعد بنی قریظہ
خندق کے بعد بنی قریظہ: سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا حکم
صحیح مسلم : ۴۵۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۹۸
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْعَرِقَةِ رَمَاهُ فِي الْأَكْحَلِ ، فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ يَعُودُهُ مِنْ قَرِيبٍ ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخَنْدَقِ ، وَضَعَ السِّلَاحَ فَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ ، فَقَالَ : وَضَعْتَ السِّلَاحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَاهُ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَيْنَ ؟ ، فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَاتَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُكْمَ فِيهِمْ إِلَى سَعْدٍ ، قَالَ : فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ ، وَأَنْ تُسْبَى الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ وَتُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ " ،
عائشہ روایت:
سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو خندق کے دن ایک شخص نے جو قریش میں سے تھا عرقہ (اس کی ماں کا نام ہے) کا بیٹا ایک تیر مارا، وہ تیر ان کی اکحل (شریان) میں لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگا دیا (اس سے معلوم ہوا کہ مسجد میں سونا اور بیمار کا رہنا درست ہے) وہیں نزدیک سے ان کو پوچھ لیتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی لڑائی سے لوٹے تو ہتھیار رکھ دیئے اور غسل کیا، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے غبار سے اپنا سر جھٹکتے ہوئے اور کہا: آپ نے ہتھیار اتار ڈالے اور ہم نے تو اللہ کی قسم ہتھیار نہیں رکھے چلو ان کی طرف۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کدھر؟ ”انہوں نے اشارہ کیا بنی قریظہ کی طرف، پھر لڑے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ قلعہ سے اترے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ پر راضی ہو کر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا فیصلہ سعد پر رکھا۔ (کیونکہ وہ حلیف تھے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے) سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں یہ حکم کرتا ہوں کہ ان میں جو لڑنے والے ہیں وہ تو مار دیئے جائیں، بچے اور عورتیں قیدی بنیں اور ان کے مال تقسیم ہو جائیں۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۹۸ کا خلاصہ
اس روایت میں غزوہ خندق کے بعد کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو خندق کے دن تیر لگا، تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگوا دیا تاکہ قریب سے عیادت کر سکیں۔ جب نبی صلى الله عليه وسلم خندق سے واپس آئے، ہتھیار رکھے اور غسل کیا، تو جبرائیل علیہ السلام آئے اور بنی قریظہ کی طرف جانے کا کہا۔ پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان سے جنگ کی۔ وہ نبی صلى الله عليه وسلم کے فیصلے پر اترے، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے فیصلہ سعد رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے لڑنے والوں، عورتوں بچوں اور مال کے بارے میں فیصلہ دیا۔ یہ حدیث سعد بن معاذ، بنی قریظہ، مسجد میں خیمہ اور خندق کے بعد کے واقعے سے متعلق اہم روایت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے مسجد میں خیمہ لگوایا۔
- جبرائیل علیہ السلام کے اشارے کے بعد بنی قریظہ کی طرف رخ کیا گیا۔
- فیصلہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا گیا۔
- روایت میں لڑنے والوں، عورتوں بچوں اور مال کے بارے میں فیصلہ ذکر ہے۔
