صحیح مسلم حدیث ۴۵۹۲ - بنی نضیر اور بنی قریظہ
بنی نضیر اور بنی قریظہ: مدینہ کے واقعات کی روایت
صحیح مسلم : ۴۵۹۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۹۲
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا وقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ ، وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ ، حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ ، إِلَّا أَنَّ بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَهُمْ وَأَسْلَمُوا ، وَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ بَنِي قَيْنُقَاعَ وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ وَكُلَّ يَهُودِيٍّ كَانَ بِالْمَدِينَةِ " ،
عبداللہ بن عمر روایت:
بنی نضیر اور قریظہ کے یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کے یہودیوں کو نکال دیا اور قریظہ کے یہودیوں کو رہنے دیا بلکہ ان پر احسان کیا۔ پھر قریظہ اس کے بعد لڑے (اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دغا بازی کی جنگ احزاب میں مشرکوں کے ساتھ ہو گئے) تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مردوں کو مار ڈالا اور ان کی عورتوں اور بچوں اور مالوں کو مسلمانوں میں بانٹ دیا مگر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امن دیا، وہ مسلمان ہو گئے اور نکال دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے یہود کو بالکل بنی قینقاع کو جو عبداللہ بن سلام کی قوم تھی اور بنی حارثہ کو اور ہر ایک یہودی کو جو مدینہ میں تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۹۲ کا خلاصہ
یہ روایت مدینہ کے مخصوص تاریخی واقعات کو بیان کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنی نضیر اور بنی قریظہ کے یہودیوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے جنگ کی۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے بنی نضیر کو نکال دیا، جبکہ قریظہ کو رہنے دیا اور ان پر احسان کیا۔ پھر جب قریظہ نے بعد میں جنگ کی تو ان کے مردوں، عورتوں، بچوں اور مال کے بارے میں فیصلہ ہوا، جیسا کہ روایت میں بیان ہے۔ کچھ لوگ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آ گئے، آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں امن دیا اور وہ مسلمان ہو گئے۔ پھر مدینہ کے باقی یہود کے نکلنے کا ذکر بھی آیا۔ اس حدیث میں اصل توجہ عہد، جنگ، امن اور مدینہ کے خاص معاملے پر ہے؛ اسے آج کے عام لوگوں پر غصہ نکالنے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں بنی نضیر اور بنی قریظہ کے الگ الگ معاملات بیان ہوئے۔
- پہلے قریظہ کو رہنے دیا گیا اور احسان کا ذکر آیا۔
- جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے، انہیں امن دیا گیا۔
- یہ حدیث مدینہ کے خاص تاریخی فیصلوں سے متعلق ہے۔
