صحیح مسلم حدیث ۴۶۰۱ - سعد بن معاذؓ کا صبر اور بنی قریظہ
سعد بن معاذ کی حدیث: صبر، زخم اور بنی قریظہ کا معاملہ
صحیح مسلم : ۴۶۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۰۱
وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَانْفَجَرَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَمَا زَالَ يَسِيلُ حَتَّى مَاتَ ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ : فَذَاكَ حِينَ يَقُولُ الشَّاعِرُ : أَلَا يَا سَعْدُ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ فَمَا فَعَلَتْ قُرَيْظَةُ ، وَالنَّضِيرُ لَعَمْرُكَ إِنَّ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ غَدَاةَ تَحَمَّلُوا لَهُوَ الصَّبُورُ تَرَكْتُمْ قِدْرَكُمْ لَا شَيْءَ فِيهَا وَقِدْرُ الْقَوْمِ حَامِيَةٌ تَفُورُ ، وَقَدْ قَالَ الْكَرِيمُ أَبُو حُبَابٍ : أَقِيمُوا قَيْنُقَاعُ وَلَا تَسِيرُوا وَقَدْ كَانُوا بِبَلْدَتِهِمْ ثِقَالًا كَمَا ثَقُلَتْ بِمَيْطَانَ الصُّخُورُ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ زخم اسی رات کو جاری ہو گیا اور جاری رہا یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔ اتنا زیادہ ہے کہ شاعر نے اسی بابب میں یہ تین شعر کہے ان کا ترجمہ یہ ہے۔ اے سعد بیٹے معاذ کے قریظہ اور نضیر کیا ہوئے؟ قسم تیری عمر کی کہ سعد جس صبح کو تم مصیبت اٹھا رہے ہو خاموش ہے، اے اوس (جو خلفاء تھے قریظہ کے) تم نے اپنی ہانڈی خالی چھوڑ دی اور قوم کی ہانڈی (یعنی خزرج دوسرے قبیلہ کی) گرم ہے، ابل رہی ہے، نیک نفس ابوحباب نے (عبداللہ بن ابی بن سلول منافق نے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قینقاع کے یہود کی سفارش کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سفارش قبول کی) کہہ دیا ٹھہرے رہو، قینقاع والو! اور مت جاؤ حالانکہ وہ لوگ شہر میں ایسے ذلیل تھے جیسے میطان (ایک پہاڑ کا نام ہے) میں پتھر ذلیل ہیں۔ غرض اس سے یہ ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ بنی قریظہ کی سفارش پر مستعد ہوں اور ان کو بچائیں۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سعد بن معاذؓ کے زخم کا ذکر آتا ہے کہ وہ اسی رات کھل گیا اور مسلسل بہتا رہا، یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے۔ اسی واقعے کے ساتھ شاعر کے چند اشعار بھی نقل ہوئے جن میں بنی قریظہ، بنی نضیر اور قینقاع کا ذکر ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سعد بن معاذؓ کا نام ایک ایسے موقع پر لیا جا رہا ہے جہاں قومیں اپنے اپنے حلیفوں کے لیے سفارش اور مدد کی امید رکھتی تھیں۔ یہ سعد بن معاذ کی حدیث ہمیں صبر، آزمائش اور بڑے فیصلوں کے وقت سنجیدگی کا احساس دلاتی ہے۔ متن میں کوئی عام حکم نہیں دیا گیا، اس لیے بات کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے کہ زخم، وفات اور بنی قریظہ کے معاملے کا ذکر ایک خاص واقعے کے طور پر آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آزمائش کے وقت صبر اور سنجیدگی ایک بڑی خوبی ہے۔
- بڑے اجتماعی معاملات میں جذبات کے ساتھ ذمہ داری کا احساس بھی ضروری ہے۔
- حدیث کے واقعات کو اسی حد تک بیان کرنا چاہیے جتنا متن میں آیا ہے۔
- لوگ مشکل وقت میں اپنے بااثر افراد سے مدد یا سفارش کی امید رکھتے تھے۔
