صحیح مسلم حدیث ۴۶۰۰ - سعد بن معاذ کی دعا اور شہادت
سعد بن معاذ کی دعا: زخم، جہاد کی تمنا اور وفات
صحیح مسلم : ۴۶۰۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۰۰
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ سَعْدًا قَالَ : وَتَحَجَّرَ كَلْمُهُ لِلْبُرْءِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنْ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَ فِيكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْرَجُوهُ ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْءٌ فَأَبْقِنِي أُجَاهِدْهُمْ فِيكَ ، اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَإِنْ كُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَافْجُرْهَا ، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِيهَا ، فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ ، فَلَمْ يَرُعْهُمْ وَفِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ إِلَّا وَالدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ ؟ ، فَإِذَا سَعْدٌ جُرْحُهُ يَغِذُّ دَمًا فَمَاتَ مِنْهَا " ،
عائشہ روایت:
سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا زخم سوکھ گیا اور اچھا ہونے کو تھا۔ انہوں نے دعا کی، یا اللہ! تو جانتا ہے کہ مجھے تیری راہ میں جہاد کرنے سے ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور نکالا کوئی چیز زیادہ پسند نہیں ہے یا اللہ! اگر قریش کی لڑائی ابھی باقی ہو تو مجھے زندہ رکھ، میں ان سے جہاد کروں گا۔یا اللہ! میں سمجھتا ہوں کہ ہماری ان کی لڑائی تو نے ختم کر دی! اگر ایسا ہے تو اس زخم کو کھول دے اور میری موت اسی میں کر (یہ آرزو ہے شہادت کی اور موت کی آرزو نہیں ہے جو منع ہے) پھر وہ زخم بہنے لگا، ہنسلی کے مقام سے یا گردن سے یا اسی رات کو بہنے لگا (یہ جب ہے کہ حدیث میں «من ليلة» ہو۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے کہا: یہی صحیح ہے) اور لوگ نہیں ڈرے مگر مسجد میں ان کے ساتھ ایک خیمہ تھا بنی غفار کا، خون اس طرف بہنے لگا تب وہ بولے، اے خیمہ والو! یہ کیا ہے جو تمہاری طرف سے آ رہا ہے (معلوم ہوا کہ سعد کا زخم بہہ رہا ہے) آخر اسی زخم میں فوت ہوئے (اور اللہ تعالیٰ نے شہادت دی)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی دعا، ان کا زخم اور اسی زخم سے وفات ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سعد رضی اللہ عنہ کا زخم خشک ہو کر اچھا ہونے کو تھا۔ انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ مجھے تیرے راستے میں ان لوگوں سے جہاد کرنے سے زیادہ کوئی چیز پسند نہیں جنہوں نے تیرے رسول صلى الله عليه وسلم کو جھٹلایا اور نکالا۔ انہوں نے دعا کی کہ اگر قریش کی جنگ باقی ہے تو مجھے زندہ رکھ، اور اگر جنگ ختم ہو چکی ہے تو زخم کھول دے اور میری موت اسی میں کر۔ پھر زخم کھل گیا اور خون بہنے لگا، یہاں تک کہ وہ اسی سے فوت ہوئے۔ روایت میں ان کی اللہ کے راستے میں سچی چاہت اور انجام بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی دعا میں اللہ کو گواہ بنایا۔
- انہوں نے قریش سے باقی جنگ ہو تو زندہ رہنے کی دعا کی۔
- اگر جنگ ختم ہو گئی ہو تو اسی زخم میں موت کی دعا کی۔
- روایت میں زخم کے دوبارہ کھلنے اور وفات کا بیان ہے۔
