صحیح مسلم حدیث ۴۶۱۰ - حکمرانوں کو دعوت اسلام
دعوت الی اللہ کی حدیث: حکمرانوں تک پیغام پہنچانا
صحیح مسلم : ۴۶۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۱۰
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَقُلْ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،
انس بن مالک روایت:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں لیکن ان روایتوں میں یہ نہیں ہے کہ یہ نجاشی وہ نہیں تھا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۱۰ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مختلف حکمرانوں کو لکھا اور انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا۔ اس روایت میں وہ جملہ نہیں آیا کہ یہ نجاشی وہ نہیں تھا جس پر نبی صلى الله عليه وسلم نے جنازہ پڑھا۔ اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ حدیث کے الفاظ میں جو بات موجود ہو، اسی کو اصل بنایا جاتا ہے۔ یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے دعوت اسلام کو خط کے ذریعے دور کے حکمرانوں تک پہنچایا۔ یہ دعوت الی اللہ کی حدیث ہے، جس میں کسریٰ، قیصر، نجاشی اور حکمرانوں کو اللہ کی طرف بلانے کا عمومی مضمون ہے۔ اس سے زیادہ تفصیل اس روایت میں نہیں، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رہے گی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حکمرانوں تک دعوت پہنچانے کا اہتمام کیا۔
- ہر روایت کے الفاظ کو الگ الگ امانت سے سمجھنا چاہیے۔
- اس روایت میں دعوت کا مرکز اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا ہے۔
- خط لکھ کر اہم پیغام پہنچانا ایک سنجیدہ طریقہ تھا۔
