صحیح مسلم حدیث ۴۶۲۰ - طائف سے واپسی کا فیصلہ

طائف کے محاصرے کی حدیث: حکمت، صبر اور واپسی کا فیصلہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۲۰

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الْأَعْمَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : " حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا ، فَقَالَ : إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ أَصْحَابُهُ : نَرْجِعُ وَلَمْ نَفْتَتِحْهُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ ، فَغَدَوْا عَلَيْهِ فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا ، قَالَ : فَأَعْجَبَهُمْ ذَلِكَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے (اور بعض نسخوں میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ہے جو عاص کے بیٹے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھیر لیا طائف والوں کو اور نہیں حاصل کیا ان سے کچھ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم لوٹ چلیں گے اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا: بغیر فتح کہ ہم لوٹ جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ ”اچھا صبح کو لڑو، وہ لڑے اور زخمی ہوئے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم کل لوٹ جائیں گے۔“ یہ ان کو بھلا معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۶۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں طائف کے محاصرے کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے طائف والوں کا محاصرہ کیا، مگر اس سے کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہم واپس چلیں گے، اگر اللہ نے چاہا۔ صحابہؓ کو پہلے یہ بات بھاری لگی کہ بغیر فتح کے واپس جائیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ صبح لڑو۔ وہ لڑے اور زخمی ہوئے۔ اس کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہم کل واپس جائیں گے۔ اب یہ بات انہیں اچھی لگی، تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم مسکرا دیے۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ کبھی کسی مہم میں واپسی بھی حکمت ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب نقصان سامنے آ رہا ہو۔ متن میں یہی واقعہ ہے، اس لیے اس سے عمومی دعوے نہیں بنانے چاہئیں، بلکہ طائف، محاصرہ، زخمی ہونا، واپسی اور نبی صلى الله عليه وسلم کے تبسم کو اسی ترتیب سے سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر مہم کا انجام فوری فتح نہیں ہوتا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے واپسی کے فیصلے میں اللہ کی مشیت کا ذکر فرمایا۔
  • صحابہؓ نے تجربے کے بعد واپسی کی حکمت کو بہتر سمجھا۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا تبسم صحابہؓ کے بدلتے احساس پر آیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں