صحیح مسلم حدیث ۴۶۱۲ - غزوہ حنین میں نبی صلى الله عليه وسلم کی شجاعت

غزوہ حنین کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کی شجاعت اور صحابہ کی واپسی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۱۲

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ : قَالَ عَبَّاسٌ " شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، فَلَزِمْتُ أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ نُفَارِقْهُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نُفَاثَةَ الْجُذَامِيُّ ، فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ ، قَالَ عَبَّاسٌ : وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا إِرَادَةَ أَنْ لَا تُسْرِعَ ، وَأَبُو سُفْيَانَ آخِذٌ بِرِكَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْ عَبَّاسُ نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ ، فَقَالَ عَبَّاسٌ : وَكَانَ رَجُلًا صَيِّتًا ، فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي : أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلَادِهَا ، فَقَالُوا : يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ ، قَالَ : فَاقْتَتَلُوا وَالْكُفَّارَ وَالدَّعْوَةُ فِي الْأَنْصَارِ ، يَقُولُونَ : يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : ثُمَّ قُصِرَتِ الدَّعْوَةُ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، فَقَالُوا : يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ ، قَالَ : ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ ، ثُمَّ قَالَ : انْهَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَى هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَى ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلًا وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا " ،

عباس بن عبدالمطلب روایت:

میں حنین (ایک وادی ہے درمیان مکہ اور طائف کے عرفات کے پرے) کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، تو میں اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی) دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لپٹے رہے اور جدا نہیں ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفید خچر پر سوار تھے جو فروہ بن نفاثہ جذامی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دیا تھا (جس کو شہباء اور دل دل بھی کہتے تھے) جب مسلمانوں اور کافروں کا سامنا ہوا تو مسلمان بھاگے پیٹھ موڑ کر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایڑ دے رہے تھے اپنے خچر کو کافروں کی طرف جانے کے لیے (یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال شجاعت تھی کہ ایسے سخت وقت میں خچر پر سوار ہوئے ورنہ گھوڑے بھی موجود تھے) سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کی لگام پکڑے تھا اور اس کو روک رہا تھا تیز چلنے سے اور ابوسفیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب تھامے تھے۔آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ ”اے عباس! اصحاب سمرہ کو پکارو۔ اور عباس کی آواز نہایت بلند تھی۔ (وہ رات کو اپنے غلاموں کو آواز دیتے تو آٹھ میل تک جاتی) سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بلند آواز سے پکارا کہاں ہیں اصحاب السمرہ؟یہ سنتے ہی قسم اللہ کی وہ ایسے لوٹے جیسے گائے اپنے بچوں کے پاس چلی آتی ہے اور کہنے لگے حاضر ہیں، حاضر ہیں (اس سے معلوم ہوا کہ وہ دور نہیں بھاگے تھے اور نہ سب بھاگے تھے بلکہ بعض نو مسلم وغیرہ دفعتاً تیروں کی بارش سے لوٹے اور گڑبڑ ہو گئی، پھر اللہ نے مسلمانوں کے دل مضبوط کر دیئے) پھر وہ لڑنے لگے کافروں سے اور انصار کو یوں بلایا، اے انصار کے لوگو! انصار کے لوگو! پھر تمام ہوا بلانا بنی حارث بن خزرج پر (جو انصار کی ایک جماعت ہے) پکارا انہوں نے اے بنی حارث بن خزرج! اے بنی حارث بن خزرج! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر تھے گردن کو لمبا کیے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ان کی لڑائی کو اور فرمایا: ”یہ وقت ہے تنور کے جوش کا۔“ (یعنی اس وقت میں لڑائی خوب گرما گرمی سے ہو رہی ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند کنکریاں اٹھائیں اور کافروں کے منہ پر ماریں اور فرمایا: ”شکست پائی کافروں نے قسم ہے محمد کے مالک کی۔“سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں دیکھنے گیا تو لڑائی ویسی ہی ہو رہی تھی، اتنے میں قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں ماریں تو کیا دیکھتا ہوں کہ کافروں کا زور گھٹ گیا اور ان کا کام الٹ گیا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۶۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں عباسؓ غزوہ حنین کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ وہ اور ابو سفیان بن حارثؓ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ رہے اور آپ صلى الله عليه وسلم سے جدا نہیں ہوئے۔ جب مسلمانوں اور کافروں کا سامنا ہوا تو کچھ مسلمان پیچھے ہٹے، مگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اپنے سفید خچر کو کافروں کی طرف بڑھا رہے تھے۔ عباسؓ لگام پکڑے ہوئے تھے اور ابو سفیانؓ رکاب تھامے ہوئے تھے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے عباسؓ کو اصحاب سمرہ کو پکارنے کا حکم دیا۔ وہ آواز سن کر واپس آئے اور لڑائی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے کنکریاں کافروں کے چہروں کی طرف پھینکیں اور شکست کی خبر دی۔ یہ غزوہ حنین کی حدیث نبی صلى الله عليه وسلم کی شجاعت، صحابہ کی واپسی اور سخت وقت میں قیادت کا صاف بیان ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سخت وقت میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ثابت قدم رہے۔
  • صحابہؓ پکار سن کر فوراً واپس آئے اور لڑائی میں شامل ہوئے۔
  • عباسؓ اور ابو سفیان بن حارثؓ نے نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ رہ کر خدمت کی۔
  • حدیث میں فتح کو اللہ کی مدد کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں