صحیح مسلم حدیث ۴۶۲۳ - فتح مکہ میں قریش کے مقابلے کا حکم

فتح مکہ کی روایت: انصار، قریش اور نبی صلى الله عليه وسلم کا واضح جواب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۲۳

وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ، ثُمّ قَالَ : بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى احْصُدُوهُمْ حَصْدًا ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : قَالُوا : قُلْنَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَمَا اسْمِي إِذًا كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر بتایا، کاٹ دو ان کو بالکل۔

صحیح مسلم حدیث ۴۶۲۳ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی فتح مکہ کی حدیث ہی کے مضمون کو مزید مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں خاص طور پر یہ اضافہ آیا ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر اشارہ فرمایا اور قریش کے مقابلے کے بارے میں سخت حکم دیا۔ پھر انصار کے دل میں جو خیال پیدا ہوا، اس کا جواب بھی نبی صلى الله عليه وسلم نے دیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میرا نام کیا ہے؟ پھر فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ اس حدیث کا اہم پہلو یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی شان کو بندگی اور رسالت کے ساتھ بیان کیا، اور انصار کے عذر کو قبول فرمایا۔ اس لیے فتح مکہ کی حدیث صرف جنگی واقعہ نہیں، بلکہ وفاداری، اطاعت اور دلوں کی اصلاح کا بھی سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم کے سامنے صحابہ نے اطاعت کا جذبہ دکھایا۔
  • انصار نے اپنے دل کی بات چھپائی نہیں، عذر پیش کیا۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی عبدیت اور رسالت کو صاف لفظوں میں بیان فرمایا۔
  • فتح کے موقع پر بھی دلوں کی اصلاح اور نیت کی صفائی اہم رہی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں