صحیح مسلم حدیث ۴۶۲۷ - فتح مکہ کے بعد قریشی کے قتل سے ممانعت

فتح مکہ کے بعد قریش کے بارے میں نبی صلى الله عليه وسلم کا اعلان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۲۷

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : " لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ،

مطیع بن اسود روایت:

میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس دن مکہ فتح ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔ ”آج کے بعد کوئی قریشی آدمی قتل نہ کیا جائے گا باندھ کر قیامت تک۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۶۲۷ کا خلاصہ

یہ حدیث فتح مکہ کے بعد کے ایک مختصر مگر اہم اعلان کو بیان کرتی ہے۔ سیدنا مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو فتح مکہ کے دن فرماتے سنا کہ آج کے بعد کوئی قریشی آدمی باندھ کر قتل نہ کیا جائے گا، قیامت تک۔ اس روایت کا موضوع امان قریش اور قتل صبر سے منع ہے۔ متن میں تفصیل کم ہے، اس لیے اس سے وہی بات لی جائے گی جو صاف موجود ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فتح کے دن ایک حد بیان فرمائی کہ قریشی کو اس طرح قتل نہیں کیا جائے گا۔ فتح مکہ کی حدیث میں پہلے بھی امن کے دروازے ذکر ہوئے ہیں، اور یہاں ایک خاص اعلان سامنے آتا ہے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ حکم کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جس حد تک متن میں آیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فتح مکہ کے دن قریش کے بارے میں ایک خاص اعلان فرمایا گیا۔
  • حدیث میں باندھ کر قتل کرنے سے ممانعت کا ذکر ہے۔
  • دینی بات کو متن کے الفاظ کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
  • فتح کے موقع پر بھی نبی صلى الله عليه وسلم کے احکام حد اور ضبط کے ساتھ تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں