صحیح مسلم حدیث ۴۶۲۶ - کعبہ سے بتوں کا ہٹایا جانا
کعبہ کے بتوں کی حدیث: حق کے سامنے باطل کا ختم ہونا
صحیح مسلم : ۴۶۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۲۶
وحَدَّثَنَاه حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ : زَهُوقًا ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْآيَةَ الْأُخْرَى ، وَقَالَ : بَدَلَ نُصُبًا صَنَمًا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۲۶ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو بیان کرتی ہے جو فتح مکہ کے دن کعبہ کے گرد بتوں کے بارے میں آیا ہے۔ اس میں لفظ نصب کے بجائے صنم کا ذکر ہے اور روایت حق آیا اور باطل مٹ گیا تک پہنچتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم مکہ میں داخل ہوئے، کعبہ کے پاس بت موجود تھے، اور آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ کی لکڑی سے ہٹایا۔ یہ واقعہ توحید کی حدیث کے طور پر بہت اہم ہے، کیونکہ اس میں عبادت کو صرف اللہ کے لیے خاص کرنے کا عملی اعلان ہے۔ اس متن میں لمبی تفصیل نہیں، مگر جو بات آئی ہے وہ صاف ہے: حق آیا، باطل مٹ گیا۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھ کر بندہ شرک، بت پرستی اور باطل طریقوں سے دور رہنے کا سبق لیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- توحید کا تقاضا ہے کہ عبادت صرف اللہ کے لیے ہو۔
- فتح مکہ کے دن کعبہ کے پاس موجود بت ہٹائے گئے۔
- حق کے آنے کے ساتھ باطل کے ختم ہونے کا اعلان کیا گیا۔
- روایت مختصر ہے، مگر اس کا پیغام بہت صاف ہے۔
