صحیح مسلم حدیث ۴۶۲۸ - عاصی سے مطیع نام رکھنے کی روایت
نام بدلنے کی حدیث: عاصی سے مطیع کا نام
صحیح مسلم : ۴۶۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۲۸
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ، قَالَ : وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ أَحَدٌ مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ كَانَ اسْمُهُ الْعَاصِي ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًا .
اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اتنا زیادہ ہے کہ اس دن جن لوگوں کے نام عاص تھے قریش کے لوگوں میں سے کوئی ان میں سے مسلمان نہیں ہوا سوائے عاص بن اسود کے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام بدل کر مطیع رکھ دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۲۸ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے ساتھ ایک اضافہ بیان کرتی ہے۔ اس میں آیا ہے کہ قریش میں جن لوگوں کے نام عاص تھے، ان میں اس دن کوئی مسلمان نہیں ہوا سوائے عاص بن اسود کے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان کا نام بدل کر مطیع رکھ دیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع نام کی اصلاح ہے۔ عاصی کے معنی نافرمانی سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ مطیع اطاعت کے معنی سے جڑا ہے۔ متن میں صرف اسی خاص واقعے کا ذکر ہے، اس لیے اسے اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔ اس روایت سے اتنا واضح ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک شخص کا نام بہتر معنی والے نام سے بدل دیا۔ یہ نام بدلنے کی حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مسلمان اپنے نام کے معنی پر توجہ دے، خاص طور پر جب نام نافرمانی جیسے معنی رکھتا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے عاصی نام بدل کر مطیع رکھا۔
- اچھے معنی والے نام پسند کیے جا سکتے ہیں۔
- روایت ایک خاص شخص اور خاص واقعے سے متعلق ہے۔
- نام کے معنی پر توجہ دینا ایک اچھی بات ہے۔
