صحیح مسلم حدیث ۴۶۲۹ - صلح حدیبیہ اور نبی صلى الله عليه وسلم کی نرمی

صلح حدیبیہ کی حدیث: معاہدہ، نرمی اور شرطوں کی پابندی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۲۹

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ : " كَتَبَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الصُّلْحَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَكَتَبَ هَذَا مَا كَاتَبَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالُوا : لَا تَكْتُبْ رَسُولُ اللَّهِ فَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ نُقَاتِلْكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ : امْحُهُ ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ ، فَمَحَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، قَالَ : وَكَانَ فِيمَا اشْتَرَطُوا أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ ، فَيُقِيمُوا بِهَا ثَلَاثًا ، وَلَا يَدْخُلُهَا بِسِلَاحٍ إِلَّا جُلُبَّانَ السِّلَاحِ " ، قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ : وَمَا جُلُبَّانُ السِّلَاحِ ؟ ، قَالَ : الْقِرَابُ وَمَا فِيهِ ؟

براء بن عازب روایت:

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس صلح نامے کو لکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکوں سے قرار پایا حدیبیہ کے دن، اس میں یہ عبارت تھی، یہ وہ ہے جو فیصلہ کیا محمد اللہ کے رسول نے (اس سے معلوم ہوا کہ وثائق اور اسناد میں اول یونہی لکھنا چاہیے) مشرک بولے! اللہ کے رسول آپ مت لکھیے اس لیے اگر ہم کو یقین ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم کیوں لڑتے۔ آپ سے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس لفظ کو مٹا دو۔“ انہوں نے عرض کیا: میں اس کو مٹانے والا نہیں (یہ انہوں نے ادب کی راہ سے عرض کیا یہ جان کر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم قطعی نہیں ہے ورنہ اس کی اطاعت واجب ہو جاتی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے ہاتھ سے مٹا دیا (یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھے لکھے نہ تھے ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے بجائے رسول کے ابن عبداللہ کا لفظ لکھ دیا) اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ مکہ میں آئیں اور تین دن تک رہیں اور ہتھیار لے کر نہ آئیں مگر غلاف کے اندر۔

صحیح مسلم حدیث ۴۶۲۹ کا خلاصہ

یہ حدیث صلح حدیبیہ کے معاہدے کا ایک اہم حصہ بیان کرتی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم اور مشرکوں کے درمیان صلح نامہ لکھا۔ عبارت میں محمد اللہ کے رسول لکھا گیا تو مشرکوں نے کہا کہ رسول اللہ نہ لکھیں، کیونکہ اگر ہم آپ کو رسول مانتے تو لڑتے ہی کیوں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اسے مٹا دو۔ انہوں نے ادب اور محبت کی وجہ سے کہا کہ میں اسے نہیں مٹاؤں گا، پھر نبی صلى الله عليه وسلم نے خود اسے مٹا دیا۔ معاہدے میں یہ شرط بھی تھی کہ مسلمان مکہ میں تین دن رہیں گے اور ہتھیار صرف غلاف میں ہوں گے۔ یہ صلح حدیبیہ کی حدیث بتاتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے مقصد کے لیے الفاظ میں نرمی اختیار کی اور شرطوں کو واضح رکھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • معاہدے میں باتیں صاف لکھی جاتی ہیں۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے بڑی مصلحت کے لیے عبارت میں نرمی فرمائی۔
  • سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت اور ادب روایت میں ظاہر ہے۔
  • حدیبیہ میں تین دن قیام اور ہتھیار غلاف میں رکھنے کی شرط ہوئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں