صحیح مسلم حدیث ۴۶۳۰ - حدیبیہ کا صلح نامہ اور عبارت کی تبدیلی
حدیبیہ کا صلح نامہ: محمد رسول اللہ کے لفظ پر اعتراض
صحیح مسلم : ۴۶۳۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۳۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ : لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ كَتَبَ عَلِيٌّ كِتَابًا بَيْنَهُمْ ، قَالَ : فَكَتَبَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ ذَكَرَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاذٍ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ هَذَا مَا كَاتَبَ عَلَيْهِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۳۰ کا خلاصہ
یہ روایت صلح حدیبیہ کے اسی واقعے کو دوسرے طریق سے بیان کرتی ہے۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حدیبیہ والوں سے صلح کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان کتاب لکھی۔ اس میں محمد رسول اللہ لکھا گیا، پھر مشرکوں نے اس پر اعتراض کیا۔ اس روایت میں پچھلی روایت کی طرح پوری عبارت نہیں آئی، مگر اصل واقعہ وہی ہے کہ صلح نامہ لکھا گیا اور لفظ رسول اللہ پر گفتگو ہوئی۔ حدیبیہ کی حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کی نرمی، معاملہ سنبھالنے کا طریقہ اور معاہدے کی پابندی سامنے آتی ہے۔ یہ بات بھی صاف ہے کہ دین کی سچائی اپنی جگہ قائم رہی، مگر معاہدے کے الفاظ میں ایسی صورت اختیار کی گئی جس سے صلح مکمل ہو سکے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صلح نامہ لکھتے وقت الفاظ پر بھی گفتگو ہو سکتی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے صلح کے مقصد کو سامنے رکھا۔
- سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے معاہدہ لکھنے کی خدمت انجام دی۔
- حدیث میں نرمی اور مضبوطی دونوں ساتھ نظر آتے ہیں۔
