صحیح مسلم حدیث ۴۶۳۸ - سورہ فتح کی آیات اور حدیبیہ کی تسلی
سورہ فتح کی حدیث: غم کے بعد اللہ کی طرف سے خوش خبری
صحیح مسلم : ۴۶۳۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۳۸
وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ جَمِيعًا ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ .
انس بن مالک روایت:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ابن ابی عروبہ کی حدیث کی طرح منقول ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۳۸ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی مضمون کو نقل کرتی ہے جو حدیبیہ سے واپسی پر سورہ فتح کی آیات کے نزول کے بارے میں ہے۔ متن مختصر ہے، مگر پچھلی روایت کے مطابق بات یہی ہے کہ صحابہ غم میں تھے، ہدی حدیبیہ میں نحر ہو چکی تھی، اور مکہ میں داخلہ نہیں ہو سکا تھا۔ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیات نازل ہوئیں جنہیں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ساری دنیا سے زیادہ محبوب فرمایا۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام تسلی اور اللہ کے فیصلے پر اعتماد ہے۔ انسان کو ہر نتیجہ فوراً سمجھ نہیں آتا۔ حدیبیہ کی صلح اسی وقت مشکل محسوس ہوئی، مگر وحی نے اسے فتح کا نام دیا۔ اس لیے یہ سورہ فتح کی حدیث دل کو صبر اور امید دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیبیہ کا غم وحی کی خوش خبری سے کم ہوا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سورہ فتح کی آیت کو بہت محبوب فرمایا۔
- ہر مشکل انجام کے لحاظ سے نقصان نہیں ہوتی۔
- اللہ کے فیصلے پر اعتماد اس روایت کا اہم سبق ہے۔
