صحیح مسلم حدیث ۴۶۳۹ - عہد پورا کرنے کی بدر والی حدیث
عہد پورا کرنے کی حدیث: بدر میں شریک نہ ہونے کا واقعہ
صحیح مسلم : ۴۶۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۳۹
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ ، حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، قَالَ : " مَا مَنَعَنِي أَنْ أَشْهَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّي خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي حُسَيْلٌ ، قَالَ : فَأَخَذَنَا كُفَّارُ قُرَيْشٍ ، قَالُوا : إِنَّكُمْ تُرِيدُونَ مُحَمَّدًا ، فَقُلْنَا : مَا نُرِيدُهُ مَا نُرِيدُ إِلَّا الْمَدِينَةَ ، فَأَخَذُوا مِنَّا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ ، لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَى الْمَدِينَةِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَهُ ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ فَقَالَ : انْصَرِفَا نَفِي لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ وَنَسْتَعِينُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ " .
حذیفہ بن الیمان روایت:
مجھے بدر میں آنے سے کسی چیز نے نہ روکا مگر یہ کہ میں نکلا اپنے باپ حسیل کے ساتھ (یہ کنیت ہے حذیفہ کے باپ کی اور بعض نے حِسل کہا ہے) تو ہم کو قریش کے کافروں نے پکڑا اور کہا: تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا چاہتے ہو، سو ہم نے کہا: ہم ان کے پاس نہیں جانا چاہتے بلکہ ہم مدینہ میں جانا چاہتے ہیں۔ پھر انہوں نے ہم سے اللہ کا نام لے کر عہد اور اقرار لیا کہ ہم مدینہ کو پھر جائیں گے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر نہیں لڑیں گے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے یہ سب قصہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چلے جاؤ مدینہ کو ہم ان کا اقرار پورا کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے مدد چاہیں گے ان پر۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۶۳۹ کا خلاصہ
یہ حدیث وفائے عہد کا بہت صاف سبق دیتی ہے۔ سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے ساتھ نکلے تو قریش کے کافروں نے انہیں پکڑ لیا۔ قریش نے پوچھا کہ کیا تم محمد صلى الله عليه وسلم کے پاس جانا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم مدینہ جانا چاہتے ہیں۔ پھر قریش نے ان سے اللہ کا نام لے کر عہد لیا کہ وہ مدینہ واپس جائیں گے اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ہو کر نہیں لڑیں گے۔ جب وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے اور سارا واقعہ بتایا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں واپس چلے جاؤ، ہم ان کا عہد پورا کریں گے اور ان کے مقابلے میں اللہ سے مدد چاہیں گے۔ یہ عہد کی حدیث بتاتی ہے کہ جنگ جیسے موقع پر بھی وعدہ پورا کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے دشمن سے کیا گیا عہد بھی پورا کرنے کا حکم دیا۔
- حذیفہ رضی اللہ عنہ بدر میں اسی عہد کی وجہ سے شریک نہ ہوئے۔
- مدد کا اصل سہارا اللہ تعالیٰ کو قرار دیا گیا۔
- مشکل حالات میں بھی وعدہ نبھانا اس روایت کا واضح سبق ہے۔
