صحیح مسلم حدیث ۴۶۴۰ - غزوہ احزاب میں اطاعت اور حذیفہ رضی اللہ عنہ

غزوہ احزاب کی حدیث: حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اطاعت اور ضبط

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۴۰

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا ، عَن جَرِيرٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : لَوْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُ مَعَهُ وَأَبْلَيْتُ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنْتَ كُنْتَ تَفْعَلُ ذَلِكَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ ، وَأَخَذَتْنَا رِيحٌ شَدِيدَةٌ وَقُرٌّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ، فَقَالَ : قُمْ يَا حُذَيْفَةُ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ، فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا إِذْ دَعَانِي بِاسْمِي أَنْ أَقُومَ ، قَالَ : اذْهَبْ فَأْتِنِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلَا تَذْعَرْهُمْ عَلَيَّ " ، فَلَمَّا وَلَّيْتُ مِنْ عِنْدِهِ جَعَلْتُ كَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ حَتَّى أَتَيْتُهُمْ ، فَرَأَيْتُ أَبَا سُفْيَانَ يَصْلِي ظَهْرَهُ بِالنَّارِ ، فَوَضَعْتُ سَهْمًا فِي كَبِدِ الْقَوْسِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِيَهُ ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا تَذْعَرْهُمْ عَلَيَّ وَلَوْ رَمَيْتُهُ لَأَصَبْتُهُ ، فَرَجَعْتُ وَأَنَا أَمْشِي فِي مِثْلِ الْحَمَّامِ ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَفَرَغْتُ قُرِرْتُ ، فَأَلْبَسَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَضْلِ عَبَاءَةٍ كَانَتْ عَلَيْهِ يُصَلِّي فِيهَا ، فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّى أَصْبَحْتُ ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ، قَالَ : قُمْ يَا نَوْمَانُ " .

یزید بن شریک تیمی روایت:

ہم سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے۔ ایک شخص بولا، اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ہوتا تو جہاد کرتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور کوشش کرتا لڑنے میں، حذیفہ نے کہا تو ایسا کرتا۔ (یعنی تیرا کہنا معتبر نہیں ہو سکتا کرنا اور ہے اور کہنا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جو کوشش کی تو اس سے بڑھ کر نہ کر سکتاتم دیکھو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے احزاب (جمع ہے حزب کی، حزب کہتے ہیں گروہ کو، اس جنگ کو جو ۵ ھ ہجری میں ہوئی غزوۂ احزاب کہتے ہیں اس لیے کہ کافروں کے بہت سے گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کو آئے تھے) کی رات کو اور ہوا بہت تیز چل رہی تھی اور سردی بھی خوب چمک رہی تھی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص ہے جو کافروں کی خبر لائے اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن میرے ساتھ رکھے گا۔“یہ سن کر ہم لوگ خاموش ہو رہے اور کسی نے جواب نہ دیا (کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ ایسی سردی میں رات کو خوف کی جگہ میں جائے اور خبر لائے حالانکہ صحابہ کی جانثاری اور ہمت مشہور ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص ہے جو کافروں کی خبر میرے پاس لائے اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن میرے ساتھ رکھے گا۔“ کسی نے جواب نہ دیا سب خاموش ہو رہے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حذیفہ! اٹھ اور کافروں کی خبر لا۔“اب مجھے کچھ نہ بنا کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر حکم دیا جانے کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا اور خبر لے کر آ کافروں کی اور مت اکسانا ان کو مجھ پر (یعنی ایسا کوئی کام نہ کرنا جس سے ان کو غصہ آئے اور وہ تجھ کو ماریں یا لڑائی پر مستعد ہوں) جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلا تو ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی حمام کے اندر چل رہا ہے (یعنی سردی بالکل کافور ہو گئی بلکہ گرمی معلوم ہوتی تھی یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت تھی۔ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تو نفس کو ناگوار ہوتی ہے لیکن جب مستعدی سے شروع کر دے تو بجائے تکلیف کے لذت اور راحت حاصل ہوتی ہے) یہاں تک کہ کافروں کے پاس پہنچا۔دیکھا تو ابوسفیان اپنی کمر کو آگ سے سینک رہا ہے۔ میں نے تیر کمان پر چڑھایا اور قصد کیا مارنے کا۔ پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد آیا کہ ایسا کوئی کام نہ کرنا جس سے ان کو غصہ پیدا ہو اگر میں مار دیتا تو بے شک ابوسفیان کو لگتا، آخر میں لوٹا۔ پھر مجھے ایسا معلوم ہوا کی حمام کے اند چل رہا ہوں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سب حال کہہ دیا اس وقت سردی معلوم ہوئی (یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بڑا معجزہ تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنا ایک فاضل کمبل اوڑھا دیا جس کو اوڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے میں اس کو اوڑھ کر جو سویا تو صبح تک سوتا رہا جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھ بہت سونے والے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۶۴۰ کا خلاصہ

یہ حدیث غزوہ احزاب کی ایک سخت رات کا واقعہ بیان کرتی ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تیز ہوا اور سخت سردی تھی۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ کون دشمن کی خبر لا کر دے گا۔ صحابہ خاموش رہے، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کا نام لے کر فرمایا کہ اٹھو اور قوم کی خبر لاؤ، مگر انہیں میرے خلاف نہ اکسانا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ گئے، ابوسفیان کو آگ سے اپنی پیٹھ سینکتے دیکھا، تیر چلانے کا ارادہ بھی ہوا، مگر نبی صلى الله عليه وسلم کا حکم یاد آ گیا کہ انہیں نہ چھیڑنا۔ وہ واپس آئے اور خبر دی۔ پھر سردی محسوس ہوئی تو نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنا کمبل اوڑھا دیا۔ یہ اطاعت کی حدیث بتاتی ہے کہ بہادری صرف حملہ کرنے کا نام نہیں، حکم پر رک جانا بھی اطاعت ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سخت سردی اور خوف کے وقت بھی نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم پر عمل کیا گیا۔
  • حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دشمن کو چھیڑنے سے خود کو روکا۔
  • اطاعت کا مطلب ہے حکم کی حد تک رہنا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے خبر لانے کے بعد حذیفہ رضی اللہ عنہ پر شفقت فرمائی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں