صحیح مسلم حدیث ۴۶۴۱ - غزوہ احد میں انصار کی جانثاری
غزوہ احد کی حدیث: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے دفاع میں انصار کی جانثاری
صحیح مسلم : ۴۶۴۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۴۱
وحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُفْرِدَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي سَبْعَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَلَمَّا رَهِقُوهُ ، قَالَ : مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ ، فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ رَهِقُوهُ أَيْضًا ، فَقَالَ : مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ ، فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبَيْهِ : مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن (جب کافروں کا غلبہ ہوا اور مسلمان مغلوب ہو گئے) الگ ہو گئے سات آدمی انصار کے اور دو قریش کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہ گئے اور کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہجوم کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ان کو پھیرتا ہے اس کو جنت ملے گی یا میرا رفیق ہو گا جنت میں۔“ایک انصاری آگے بڑھا اور لڑا یہاں تک کہ مارا گیا۔ پھر انہوں نے ہجوم کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ان کو لوٹاتا ہے اس کو جنت ملے گی یا میرا رفیق ہوگا جنت میں۔“ اور ایک انصاری بڑھا اور لڑا یہاں تک کہ مارا گیا۔ پھر یہی حال رہا یہاں تک کہ ساتوں آدمی انصار کے شہید ہوئے (سبحان اللہ! انصار کی جانثاری اور وفاداری کیسی تھی، یہاں سے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ اور مرتبہ سمجھ لینا چاہیئے) تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے انصاف نہ کیا اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ یا ہمارے یاروں نے ہمارے ساتھ انصاف نہ کیا۔“پہلی صورت میں یہ مطلب ہو گا کہ انصاف نہ کیا یعنی قریش بیٹھے رہے اور انصار شہید ہو گئے قریش کو بھی نکلنا چاہیئے تھا۔ دوسری صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ ہمارے یار جو بھاگ گئے جان بچا کر انہوں نے انصاف نہ کیا کہ ان کے بھائی شہید ہوئے اور وہ اپنے تئیں بچانے کی فکر میں رہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۴۱ کا خلاصہ
یہ حدیث غزوہ احد کے ایک نہایت مشکل لمحے کو بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس اس وقت سات انصاری اور دو قریشی صحابہ رہ گئے تھے، جبکہ دشمن آپ صلى الله عليه وسلم پر چڑھ آیا تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کون ان کو ہم سے ہٹائے گا، اس کے لیے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا۔ یہ سن کر ایک انصاری آگے بڑھے، لڑے اور شہید ہو گئے۔ پھر یہی بات بار بار ہوئی، یہاں تک کہ ساتوں انصاری صحابہ شہید ہو گئے۔ اس حدیث کا اصل پیغام جانثاری، وفاداری اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے محبت ہے۔ غزوہ احد کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دین اور نبی صلى الله عليه وسلم کی حفاظت کے لیے اپنی جان تک پیش کر دی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی حفاظت کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بڑی قربانی دی۔
- انصاری صحابہ کی وفاداری غزوہ احد میں صاف نظر آتی ہے۔
- جنت کی امید نے صحابہ کو دین کے دفاع میں آگے بڑھایا۔
- مشکل وقت میں اپنے ساتھیوں کا ساتھ دینا ایمان والوں کی شان ہے۔
