صحیح مسلم حدیث ۴۶۴۵ - اللہ کے حکم کا اختیار
لیس لک من الامر شیء: احد، زخم اور اللہ کا اختیار
صحیح مسلم : ۴۶۴۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۴۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ فِي رَأْسِهِ فَجَعَلَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْهُ ، وَيَقُولُ : كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ سورة آل عمران آية 128 " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دانت مبارک ٹوٹا احد کے دن اور سر پر زخم لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خون کو دور کرتے تھے اور فرماتے تھے: ”کیسے فلاح ہو گی اس قوم کی جس نے زخمی کیا اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اور اس کا دانت توڑا حالانکہ وہ بلاتا تھا ان کو اللہ کی طرف۔“اس وقت یہ آیت اتری «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ» ﴿۳-آل عمران:١٢٨﴾ ”تمہارا کچھ اختیار نہیں ہے اللہ تعالی چاہے ان کو معاف کرے چاہے عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۶۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا دانت مبارک ٹوٹا اور سر پر زخم لگا۔ آپ صلى الله عليه وسلم خون صاف کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کو زخمی کیا اور اس کا دانت توڑا، جبکہ وہ نبی انہیں اللہ کی طرف بلا رہا تھا۔ اسی وقت قرآن کی آیت نازل ہوئی کہ آپ کے اختیار میں معاملہ نہیں، اللہ چاہے تو انہیں معاف کرے اور چاہے تو عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع اللہ کا اختیار اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی دعوت ہے۔ اس میں غزوہ احد، نبی صلى الله عليه وسلم کا زخمی ہونا، اور یہ حقیقت ایک ساتھ آتی ہے کہ آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم لوگوں کو اللہ کی طرف بلا رہے تھے، پھر بھی انہیں تکلیف دی گئی۔
- معاف کرنا یا سزا دینا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
- ظلم کرنے والوں کے بارے میں بھی آخری فیصلہ اللہ ہی کرتا ہے۔
- دین کی دعوت میں تکلیف آئے تو بھی حق کی نسبت اللہ کی طرف رہتی ہے۔
