صحیح مسلم حدیث ۴۶۴۶ - نادان قوم کے لیے دعا
رب اغفر لقومی: تکلیف کے وقت نبی کی دعا
صحیح مسلم : ۴۶۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۴۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ ، وَيَقُولُ : رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ " ،
عبداللہ بن مسعود روایت:
گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان کر رہے تھے ایک پیغمبر کا حال ان کی قوم نے ان کو مارا تھا اور وہ اپنے منہ سے خون پونچھتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے: ”یا اللہ! میری قوم کو بخش دے وہ نادان ہیں۔ (سبحان اللہ نبوت کے حلیم کا کیا کہنا)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ گویا وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو دیکھ رہے ہیں، جب آپ صلى الله عليه وسلم ایک نبی کا حال بیان کر رہے تھے۔ اس نبی کو ان کی قوم نے مارا تھا۔ وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ اے میرے رب، میری قوم کو بخش دے، کیونکہ وہ نہیں جانتے۔ یہ حدیث عفو، حلم اور نادان لوگوں کے لیے دعا کا بڑا صاف پیغام دیتی ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ تکلیف کے وقت بھی نبی کی زبان پر بدلہ نہیں، بلکہ اپنی قوم کے لیے مغفرت کی دعا تھی۔ حدیث میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ جہالت کی وجہ سے حق کو پہچان نہیں پاتے، مگر نبی ان کے لیے خیر چاہتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی اپنی قوم کی تکلیف کے باوجود ان کے لیے دعا کر رہے تھے۔
- غصے کے وقت زبان کو قابو میں رکھنا بڑی بات ہے۔
- نادانی کو سمجھ کر نرمی اختیار کرنا نبیوں کے اخلاق میں سے ہے۔
- تکلیف کے وقت بھی اللہ سے رجوع کرنا چاہیے۔
