صحیح مسلم حدیث ۴۶۵۸ - الضحیٰ کی روایات کی تائید

سورۃ الضحیٰ کے نزول کی تائیدی روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۵۸

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا .

‏‏‏‏ اسود بن قیس سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ دونوں حدیثوں کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۶۵۸ کا خلاصہ

یہ روایت اسود بن قیس ہی کی سند سے آئی ہے اور اس میں پچھلی دونوں حدیثوں کے قریب مضمون بیان ہوا ہے۔ پہلے بیان ہو چکا کہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں کچھ دیر ہوئی، یا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بیماری کی وجہ سے دو یا تین راتیں قیام نہ کر سکے، تو مشرکین یا ایک عورت نے طعنہ دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الضحیٰ کی آیات نازل فرمائیں کہ آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ ناراض ہوا۔ اس حدیث کا اصل موضوع وحی کی تائید اور اللہ کی طرف سے تسلی ہے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ ایک ہی واقعے کا مضمون مختلف سندوں سے نقل ہوا، مگر مرکزی بات ایک ہی ہے: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلى الله عليه وسلم کو چھوڑا نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سورۃ الضحیٰ کی آیات رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے لیے تسلی کا پیغام ہیں۔
  • دشمن کے طعنے کے مقابلے میں اللہ کا کلام فیصلہ کن ہے۔
  • روایت کے مختلف طرق ایک ہی مرکزی مضمون کی تائید کرتے ہیں۔
  • اللہ کی طرف نسبت میں بدگمانی سے بچنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں