صحیح مسلم حدیث ۴۶۵۶ - سورۃ الضحیٰ کا نزول
سورۃ الضحیٰ کا شان نزول: ما ودعك ربك وما قلى
صحیح مسلم : ۴۶۵۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۵۶
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جُنْدُبًا ، يَقُولُ : " أَبْطَأَ جِبْرِيلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : الْمُشْرِكُونَ قَدْ وُدِّعَ مُحَمَّدٌ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالضُّحَى { 1 } وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى { 2 } مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى { 3 } سورة الضحى آية 1-3 " .
جندب روایت:
جبرائیل علیہ السلام نے چند روز کی دیر کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے میں تو مشرک کہنے لگے: اللہ تعالیٰ نے چھوڑ دیا محمد کو۔اسی وقت یہ سورت اتار دی اللہ تعالیٰ نے «وَالضُّحَىٰ، وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ، مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ» (۹۳-الضحى:۱-۳) ”قسم ہے دن چڑھے کی اور رات کی جب ڈھانک لے، نہیں چھوڑا تجھ کو تیرے پروردگار نے اور نہ ہی ناراض ہوا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۶۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام کچھ دن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آنے میں دیر سے آئے۔ مشرکین نے طعنہ دیا کہ محمد صلى الله عليه وسلم کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الضحیٰ کی ابتدائی آیات نازل فرمائیں: قسم ہے دن چڑھے کی اور رات کی جب چھا جائے، آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ ناراض ہوا۔ اس حدیث کا اصل موضوع وحی، تسلی اور اللہ کی طرف سے اپنے نبی صلى الله عليه وسلم کی دل جوئی ہے۔ جب دشمن طعنہ دے رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ رب نے اپنے رسول صلى الله عليه وسلم کو نہیں چھوڑا۔ یہ سورۃ الضحیٰ کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ لوگوں کے طعنوں کے مقابلے میں اللہ کا کلام اصل سہارا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وحی میں وقفہ آیا تو مشرکین نے غلط طعنہ دیا۔
- اللہ تعالیٰ نے سورۃ الضحیٰ کے ذریعے اپنے نبی صلى الله عليه وسلم کو تسلی دی۔
- لوگوں کی بات کے مقابلے میں اللہ کا فرمان معتبر ہے۔
- دیر کا مطلب چھوڑ دینا نہیں ہوتا، اللہ بہتر جانتا ہے۔
