صحیح مسلم حدیث ۴۶۵۵ - انگلی کو ٹھوکر لگنے کا ذکر

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی انگلی کو ٹھوکر لگنے کی روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۵۵

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَنُكِبَتْ إِصْبَعُهُ .

اسود بن قیس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غار میں تھے (قاضی عیاض رحمہ اللہ نے کہا: یہ غلطی ہے غار کی جگہ غازی کا لفظ ہو گا یا غار سے مراد لشکر ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کو ٹھوکر لگی۔

صحیح مسلم حدیث ۴۶۵۵ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث ہی کے قریب معنی میں آئی ہے۔ اس میں اسود بن قیس سے بیان ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی انگلی کو ٹھوکر لگی۔ متن میں غار کا لفظ آیا ہے، اور ترجمہ میں اس سے متعلق ایک وضاحتی بات بھی نقل ہوئی ہے، مگر اصل روایت کا محور یہی ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کی انگلی کو چوٹ پہنچی۔ پچھلی روایت کے ساتھ مل کر یہ واقعہ اللہ کی راہ میں پیش آنے والی تکلیف کی یاد دلاتا ہے۔ یہاں ہمیں یہ بات ملتی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بھی جسمانی تکلیف سے گزرے، مگر آپ صلى الله عليه وسلم کا انداز صبر والا تھا۔ حدیث کا اصل موضوع تکلیف کو مقصد کے ساتھ سمجھنا ہے۔ جب بندہ اللہ کے راستے میں ہو تو چھوٹی چوٹ بھی اسے صبر اور اللہ کی یاد کی طرف لے جا سکتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو بھی سفر یا مشاہد میں جسمانی تکلیف پیش آئی۔
  • انگلی کی چوٹ کا ذکر پچھلی روایت کے معنی کو مضبوط کرتا ہے۔
  • اللہ کی راہ میں تکلیف آئے تو صبر کا پہلو سامنے رہنا چاہیے۔
  • حدیث کے الفاظ میں جو فرق ہو، اسے امانت سے بیان کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں