صحیح مسلم حدیث ۴۶۵۴ - اللہ کی راہ میں تکلیف

اللہ کی راہ میں انگلی زخمی ہونے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۵۴

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ ، قَالَ : " دَمِيَتْ إِصْبَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْمَشَاهِدِ ، فَقَالَ : هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ " ،

جندب بن سفیان روایت:

کسی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کو مار لگی اور خون نکل آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں ہے تو مگر ایک انگلی جس میں سے خون نکلا اور اللہ کی راہ میں تجھے یہ تکلیف ہوئی۔“ (مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں اتنی سی تکلیف بے حقیقت ہے اور یہ شعر نہیں ہے جیسے اوپر گزرا)۔

صحیح مسلم حدیث ۴۶۵۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی لڑائی میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی انگلی کو چوٹ لگی اور خون نکل آیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تو بس ایک انگلی ہے جس سے خون نکلا، اور جو تکلیف تجھے ہوئی وہ اللہ کی راہ میں ہوئی۔ یہ حدیث فی سبیل اللہ تکلیف کے بارے میں بہت سادہ مگر گہری بات بتاتی ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی تکلیف کو بڑا بنا کر بیان نہیں کیا، بلکہ اسے اللہ کی راہ سے جوڑا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے دین کے لیے پیش آنے والی چھوٹی تکلیف بھی مومن کے دل کو مقصد یاد دلاتی ہے۔ حدیث میں اصل بات صبر، حوصلہ اور اللہ کی راہ میں برداشت ہے، نہ کہ تکلیف کی شکایت۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جسمانی تکلیف کو اللہ کی راہ سے جوڑ کر دیکھا۔
  • چھوٹی تکلیف بھی انسان کو اپنا مقصد یاد دلا سکتی ہے۔
  • دین کے کام میں صبر اور حوصلہ ضروری ہے۔
  • تکلیف کے وقت شکوہ کے بجائے اللہ کی رضا کو یاد کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں