صحیح مسلم حدیث ۴۶۶۰ - عبداللہ بن ابی سے درگزر

عبداللہ بن ابی کے واقعے میں نبی صلى الله عليه وسلم کا حلم اور معافی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۶۰

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ، وَزَادَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا اس روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ اس وقت تک عبداللہ بن ابی مسلمان نہیں ہوا تھا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۶۶۰ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث کے معنی کو بیان کرتی ہے اور اس میں ایک اہم اضافہ ہے کہ اس وقت عبداللہ بن ابی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ واقعہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مختلف لوگ موجود تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے سلام کیا، اللہ کی طرف دعوت دی اور قرآن سنایا۔ عبداللہ بن ابی نے ناگوار انداز میں کہا کہ ہماری مجلسوں میں ہمیں تکلیف نہ دیں۔ اس بات پر لوگوں میں بات بڑھ گئی، مگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جھگڑا ٹھنڈا کیا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اسے معاف کر دیجیے اور درگزر کیجیے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اسے معاف فرما دیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع دعوت، برداشت اور معافی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعوت دیتے وقت مختلف مزاج کے لوگوں سے واسطہ پڑ سکتا ہے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ناگوار بات کے باوجود جھگڑا ٹھنڈا کیا۔
  • سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے معافی اور درگزر کا مشورہ دیا۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عبداللہ بن ابی کو معاف کر دیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں