صحیح مسلم حدیث ۴۶۹ - قیامت، پل صراط اور شفاعت
قیامت کے دن شفاعت، نور اور پل صراط کا بیان
صحیح مسلم : ۴۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۹
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ كلاهما ، عَنْ رَوْحٍ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، " يُسْأَلُ عَنِ الْوُرُودِ ، فَقَالَ : نَجِيءُ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ كَذَا ، وَكَذَا ، انْظُرْ أَيْ ذَلِكَ فَوْقَ النَّاسِ ، قَالَ : فَتُدْعَى الأُمَمُ بِأَوْثَانِهَا ، وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ ، ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ ، فَيَقُولُ : مَنْ تَنْظُرُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَنْظُرُ رَبَّنَا ، فَيَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ ، فَيَقُولُونَ : حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْكَ ، فَيَتَجَلَّى لَهُمْ يَضْحَكُ ، قَالَ : فَيَنْطَلِقُ بِهِمْ ، وَيَتَّبِعُونَهُ ، وَيُعْطَى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مُنَافِقٍ ، أَوْ مُؤْمِنٍ نُورًا ، ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ وَعَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ ، وَحَسَكٌ تَأْخُذُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ ، ثُمَّ يَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ ، فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ ، كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ ، ثُمَّ كَذَلِكَ ، ثُمَّ تَحِلُّ الشَّفَاعَةُ ، وَيَشْفَعُونَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً ، فَيُجْعَلُونَ بِفِنَاءِ الْجَنَّةِ وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمُ الْمَاءَ ، حَتَّى يَنْبُتُوا نَبَاتَ الشَّيْءِ فِي السَّيْلِ وَيَذْهَبُ حُرَاقُهُ ، ثُمَّ يَسْأَلُ حَتَّى تُجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهَا مَعَهَا " .
جابر بن عبداللہ انصاری روایت:
ابوالزبیر نے سنا سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے۔ ان سے پوچھا گیا: لوگوں کے آنے کا حال قیامت کے دن۔ انہوں نے کہا۔ ہم آئیں گے قیامت کے دن اس طرح سے دیکھ یعنی یہ اوپر سب آدمیوں کے، پھر بلائی جائیں گی امتیں اپنے اپنے بتوں اور معبودوں کے ساتھ پہلی امت پھر دوسری امت بعد اس کے ہمارا پروردگار آئے گا اور فرمائے گا: تم کس کو دیکھ رہے ہو؟ (یعنی امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمائے گا۔وہ کہیں گے: ہم اپنے پروردگار کو دیکھ رہے ہیں (یعنی اس کے منتظر ہیں) پروردگار فرمائے گا: میں تمہارا مالک ہوں وہ کہیں گے: ہم تجھ کو دیکھیں (تو معلوم ہو) پھر دکھائی دے گا پروردگار ان کو ہنستا ہوا اور ان کے ساتھ چلے گا۔ اور لوگ سب اس کے پیچھے ہوں گے اور ہر ایک آدمی کو خواہ وہ منافق ہو یا مؤمن ایک نور ملے گا لوگ اس کے ساتھ ہوں گے اور جہنم کے پل پر آنکڑے اور کانٹے ہوں گے۔ وہ پکڑ لیں گے جن کو اللہ چاہے گا۔بعد اس کے منافقوں کا نور بجھ جائے گا اور مؤمن نجات پائیں گے۔ تو پہلا گروہ مؤمنوں کا ان کے منہ چودھویں رات کے چاند کے سے ہوں گے، ستر ہزار آدمیوں کا ہو گا۔ جس سے نہ حساب ہو گا، نہ کتاب ان کے بعد کے گروہ خوب چمکتے تارے کی طرح ہوں گے۔ پھر ان کے بعد کا ان سے اتر کر یہاں تک کہ شفاعت کا وقت آئے گا اور لوگ شفاعت کریں گے۔ اور جہنم سے نکالا جائے گا۔ وہ شخص بھی جس نے «لا الهٰ الا الله» کہا تھا اور اس کے دل میں ایک جو برابر نیکی اور بہتری تھی۔یہ لوگ جنت کے آنگن میں ڈال ديئے جائیں گے اور جنتی لوگ ان پر پانی چھڑکیں گے۔ وہ اس طرح پنپیں گے جیسے جھاڑ پانی کے بہاؤ میں پنپتا ہے اور ان کی سوزش اور جلن بالکل جاتی رہے گی۔ پھر وہ سوال کریں گے اللہ سے اور ہر ایک کو اتنا ملے گا جیسے ساری دنیا بلکہ دس دنیا کے برابر۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں قیامت کے دن لوگوں کے آنے، امتوں کے بلائے جانے، مؤمن اور منافق کو نور ملنے، پل صراط اور شفاعت کا ذکر ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ہر آدمی کو نور دیا جائے گا، پھر منافقوں کا نور بجھ جائے گا اور مؤمن نجات پائیں گے۔ پہلے گروہ کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے ہوں گے اور ستر ہزار بغیر حساب کے ہوں گے۔ پھر شفاعت کا وقت آئے گا اور جہنم سے وہ لوگ نکالے جائیں گے جنہوں نے لا اله الا الله کہا تھا اور ان کے دل میں جو کے برابر بھلائی تھی۔ پھر جنتی ان پر پانی چھڑکیں گے، ان کی جلن دور ہو گی، اور ہر ایک کو دنیا بلکہ دس دنیا کے برابر عطا ملے گی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن مؤمنوں اور منافقوں کے حال میں فرق ظاہر ہو گا۔
- پل صراط پر نجات اللہ کے حکم سے ہو گی۔
- شفاعت کے بعد کچھ اہل توحید جہنم سے نکالے جائیں گے۔
- جنت میں داخل ہونے والوں پر اللہ کی بڑی عطا ہو گی۔
