صحیح مسلم حدیث ۴۷۳ - خوارج کی غلط فہمی اور شفاعت

خوارج کی غلط فہمی، مقام محمود اور جہنم سے نجات

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۳

وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، قَالَ : " كُنْتُ قَدْ شَغَفَنِي رَأْيٌ مِنْ رَأْيِ الْخَوَارِجِ ، فَخَرَجْنَا فِي عِصَابَةٍ ذَوِي عَدَدٍ ، نُرِيدُ أَنْ نَحُجَّ ، ثُمَّ نَخْرُجَ عَلَى النَّاسِ ، قَالَ : فَمَرَرْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَإِذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ ، جَالِسٌ إِلَى سَارِيَةٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَإِذَا هُوَ قَدْ ذَكَرَ الْجَهَنَّمِيِّينَ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ ، مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُونَ ! وَاللَّهُ يَقُولُ : إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ سورة آل عمران آية 192 ، وَ كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا سورة السجدة آية 20 ، فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُولُونَ ؟ قَالَ : فَقَالَ : أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَهَلْ سَمِعْتَ بِمَقَامِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَعْنِي الَّذِي يَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيهِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّهُ مَقَامُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَحْمُودُ الَّذِي يُخْرِجُ اللَّهُ بِهِ مَنْ يُخْرِجُ ، قَالَ : ثُمَّ نَعَتَ وَضْعَ الصِّرَاطِ ، وَمَرَّ النَّاسِ عَلَيْهِ ، قَالَ : وَأَخَافُ أَنْ لَا أَكُونَ أَحْفَظُ ذَاكَ ، قَالَ : غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ زَعَمَ ، أَنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ ، بَعْدَ أَنْ يَكُونُوا فِيهَا ، قَالَ : يَعْنِي فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمْ عِيدَانُ السَّمَاسِمِ ، قَالَ : فَيَدْخُلُونَ نَهَرًا مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمُ الْقَرَاطِيسُ " فَرَجَعْنَا ، قُلْنَا : وَيْحَكُمْ أَتُرَوْنَ الشَّيْخَ يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَجَعْنَا ، فَلَا وَاللَّهِ مَا خَرَجَ مِنَّا غَيْرُ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، أَوْ كَمَا قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ .

‏‏‏‏ یزید بن صہیب ابو عثمان فقیر سے روایت ہے، میرے دل میں خارجیوں کی ایک بات کھب گئی تھی (وہ یہ کہ کبیرہ گناہ کرنے والا ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اور جو جہنم میں جائے گا وہ پھر وہاں سے نہ نکلے گا) تو ہم نکلے ایک بڑی جماعت کے ساتھ اس ارادے سے کہ حج کریں، پھر خارجیوں کا مذہب پھیلائیں جب ہم مدینے میں پہنچے دیکھا تو سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ایک ستون کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو حدیثیں سنا رہے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی، انہوں نے یکایک ذکر کیا دوزخیوں کا۔ میں نے کہا: اے صحابی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے، تم کیا حدیث بیان کرتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے۔ ”(اے رب ہمارے) بے شک تو جس کو جہنم میں لے گیا تو نے اس کو رسوا کیا“ اور فرماتا ہے: ”جہنم کے لوگ جب وہاں سے نکلنا چاہیں گے تو پھر اس میں ڈال دیئے جائیں گے۔“ اب تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: تو نے قرآن پڑھا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے پھر کہا: تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام سنا ہے یعنی وہ مقام جو اللہ ان کو قیامت کے روز عنایت فرمائے گا (جس کا بیان اس آیت میں ہے «عسي أن يبعثك») میں نے کہا: ہاں میں نے سنا ہے انہوں نے کہا: پھر وہی مقام محمود ہے، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نکالے گا جہنم سے ان لوگوں کو جن کو چاہے گا۔ (پھر بیان کیا) انہوں نے پل صراط کا حال اور لوگوں کے گزرنے کا اس پل پر سے اور مجھے ڈر ہے۔ یاد نہ رہا ہو یہ مگر انہوں نے یہ کہا: کہ کچھ لوگ دوزخ سے نکالے جائیں گے۔ اس میں جانے کے بعد اور اس طرح سے نکلیں گے جیسے آبنوس کی لکڑیاں۔ (سیاہ جل بھن کر) پھر جنت کی ایک نہر میں جائیں گے اور وہاں غسل کریں گے اور کاغذ کی طرح سفید ہو کر نکلیں گے، یہ سن کر ہم لوٹے اور کہا ہم نے۔ خرابی ہو تمہاری کیا یہ بوڑھا جھوٹ باندھتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر (یعنی وہ ہر گز جھوٹ نہیں بولتا پھر تمہارا مذہب غلط نکلا) اور ہم سب پھر گئے اپنے مذہب سے مگر ایک شخص نہ پھرا۔ ایسا ہی کہا ابونعیم (فضل بن دکین) نے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۷۳ کا خلاصہ

اس روایت میں یزید فقیر کا واقعہ ہے۔ ان کے دل میں خوارج کی یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ جو جہنم میں جائے گا وہ کبھی نہیں نکلے گا۔ وہ ایک جماعت کے ساتھ نکلے، پھر مدینہ پہنچے تو سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی حدیثیں بیان کرتے دیکھا۔ جب جابر رضی اللہ عنہ نے جہنمیوں کا ذکر کیا تو یزید نے قرآن کی آیات پیش کر کے سوال کیا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے مقام محمود کا ذکر کیا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ اس مقام کے سبب جنہیں چاہے گا جہنم سے نکالے گا۔ پھر پل صراط اور جہنم سے نکلنے والوں کا حال بیان کیا کہ وہ جل کر سیاہ لکڑیوں جیسے ہوں گے، پھر جنت کی نہر میں غسل کر کے سفید ہو جائیں گے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی بات سمجھنے کے لیے صحابہ کرام کی روایت کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
  • قرآن کی آیات کو حدیث کے بیان کے ساتھ صحیح سمجھا جاتا ہے۔
  • کچھ لوگ جہنم سے نکل کر جنت کی نہر میں غسل کریں گے۔
  • غلط بات واضح دلیل سے چھوڑ دینی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں