صحیح مسلم حدیث ۴۷۲ - جل کر نکلنے والے لوگ

جہنم سے جل کر نکلنے والوں کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۲

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ قَوْمًا يُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ ، يَحْتَرِقُونَ فِيهَا ، إِلَّا دَارَاتِ وُجُوهِهِمْ ، حَتَّى يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ " .

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ لوگ جہنم میں جل کر وہاں سے نکلیں گے اور جنت میں جائیں گے ان سب کا بدن جل گیا ہو گا۔ سوا منہ کے چکر کے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کچھ لوگ جہنم میں جل کر وہاں سے نکلیں گے اور جنت میں داخل ہوں گے۔ ان کے بدن جل چکے ہوں گے، سوائے چہرے کے گول حصے کے۔ یہ روایت مختصر ہے مگر آخرت کے ایک خاص حال کو بیان کرتی ہے۔ اس میں نہ کسی مخصوص شخص کا نام ہے اور نہ طویل تفصیل۔ اصل بات یہ ہے کہ کچھ لوگ جہنم میں جانے کے بعد بھی اللہ کے حکم سے نکالے جائیں گے اور جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ مضمون شفاعت اور جہنم سے نجات والی روایات سے جڑا ہوا ہے۔ حدیث پڑھتے ہوئے یہ سمجھنا چاہیے کہ جنت میں داخل ہونا اللہ کی رحمت اور حکم سے ہے، جبکہ جہنم کی تکلیف بہت سخت ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کچھ لوگ جہنم میں جانے کے بعد وہاں سے نکالے جائیں گے۔
  • جہنم کی آگ کا اثر سخت ہو گا۔
  • جنت میں داخلہ اللہ کے حکم سے ہو گا۔
  • آخرت کی نجات کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں