صحیح مسلم حدیث ۴۷۰۰ - مشرک سے مدد نہ لینے کی حدیث

مشرک سے مدد نہ لینے کی حدیث: ایمان کے بعد ساتھ چلنے کی اجازت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۰۰

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ بَدْرٍ ، فَلَمَّا كَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ أَدْرَكَهُ رَجُلٌ قَدْ كَانَ يُذْكَرُ مِنْهُ جُرْأَةٌ وَنَجْدَةٌ ، فَفَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَوْهُ ، فَلَمَّا أَدْرَكَهُ ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جِئْتُ لِأَتَّبِعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ ، قَالَ لَهُ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ ، قَالَتْ : ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالشَّجَرَةِ أَدْرَكَهُ الرَّجُلُ ، فَقَالَ لَهُ : كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ ، قَالَ : فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ ، قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ فَأَدْرَكَهُ بِالْبَيْدَاءِ ، فَقَالَ لَهُ : كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَانْطَلِقْ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے جب حرۃ الوبرہ (جو مدینہ سے چار میل پر ہے) میں پہنچے تو ایک شخص ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے، جس کی بہادری اور اصالت کا شہرہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو اس نے کہا: میں اس لیے آیا کہ آپ کے ساتھ چلوں اور جو ملے اس میں حصہ پاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے یقین ہے اللہ اور اس کے رسول کا۔“ وہ بولا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو لوٹ جا میں مشرک کی مدد نہیں چاہتا۔“پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، جب شجرہ پہنچے تو وہ شخص پھر ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی فرمایا جو پہلے فرمایا تھا اور فرمایا کہ ”لوٹ جا میں مشرک کی مدد نہیں چاہتا۔“ پھر وہ لوٹ گیا۔ بعد اس کے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا بیدآء میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی فرمایا تھا ”تو یقین رکھتا ہے اللہ اور اس کے رسول پر۔“ اب وہ شخص بولا: ہاں! میں یقین رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو خیر چل۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۷۰۰ کا خلاصہ

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بدر کی طرف نکلے۔ راستے میں ایک بہادر اور معروف شخص ملا۔ صحابہ اسے دیکھ کر خوش ہوئے، مگر اس نے کہا کہ وہ ساتھ چلنا چاہتا ہے اور جو مال ملے اس میں حصہ پانا چاہتا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ واپس جاؤ، میں مشرک کی مدد نہیں چاہتا۔ یہ سوال اور جواب دوبارہ ہوا۔ پھر جب وہ بیداء میں ملا اور ایمان کا اقرار کیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے ساتھ چلنے کی اجازت دی۔ یہ حدیث ایمان، نیت، بدر کا سفر، اور مدد لینے کے اصول کو واضح کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے ایمان کے بغیر ساتھ آنے والے شخص کو واپس کیا۔
  • بہادری کے باوجود ایمان کا سوال پہلے رکھا گیا۔
  • ایمان کا اقرار کرنے کے بعد اسے ساتھ چلنے کی اجازت ملی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں