صحیح مسلم حدیث ۴۶۹۹ - غزوہ ذات الرقاع کی مشقت
غزوہ ذات الرقاع: کم سواری، زخمی پاؤں اور صبر
صحیح مسلم : ۴۶۹۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۹۹
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ ، قَالَ : فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا ، فَنَقِبَتْ قَدَمَايَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي ، فَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ ، فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ " ، لِمَا كُنَّا نُعَصِّبُ عَلَى أَرْجُلِنَا مِنَ الْخِرَقِ ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : فَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا الْحَدِيثِ ، ثُمَّ كَرِهَ ذَلِكَ ، قَالَ : كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ : وَزَادَنِي غَيْرُ بُرَيْدٍ وَاللَّهُ يُجْزِي بِهِ .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے جہاد میں اور ہم چھ آدمیوں میں ایک اونٹ تھا، باری باری اس پر چڑھتے تھے، آخر ہمارے پاؤں زخمی ہو گئے تو میرے دونوں پاؤں زخمی ہو گئے اور ناخن گر پڑے۔ ہم نے ان زخموں پر چیتھڑے لپیٹے، اس وجہ سے اس جہاد کا نام غزوۂ ذات الرقاع ہوا کیونکہ ہم اپنے پاؤں پر رقاع یعنی چیتھڑے باندھتے تھے۔سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو بیان کیا پھر برا جانا اس کا بیان کرنا کیونکہ ان کو ناگوار تھا اپنا عمل ظاہر کرنا۔ سیدنا ابواسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا برید رضی اللہ عنہ کے سوا دوسرے راویوں نے اس حدیث میں اتنا بڑھایا کہ اللہ تعالیٰ بدلہ دے گا اس کا (یعنی ہماری محنت اور تکلیف کا
صحیح مسلم حدیث ۴۶۹۹ کا خلاصہ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے۔ چھ آدمیوں کے درمیان ایک اونٹ تھا، سب باری باری اس پر سوار ہوتے تھے۔ چلتے چلتے ان کے پاؤں زخمی ہو گئے، یہاں تک کہ ابوموسیٰؓ کے پاؤں زخمی ہوئے اور ناخن گر پڑے۔ وہ اپنے پاؤں پر چیتھڑے باندھتے تھے، اسی وجہ سے اس غزوہ کو ذات الرقاع کہا گیا۔ پھر ابوموسیٰؓ نے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد اسے پسند نہ کیا، کیونکہ انہیں اپنا عمل ظاہر کرنا ناگوار تھا۔ یہ حدیث غزوہ ذات الرقاع، صحابہ کی مشقت، کم وسائل، زخمی پاؤں، اور عمل چھپانے کی پسند کو بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہؓ نے کم وسائل کے ساتھ سفر کی مشقت اٹھائی۔
- غزوہ ذات الرقاع کا نام پاؤں پر چیتھڑے باندھنے سے متعلق بیان ہوا۔
- ابوموسیٰؓ کو اپنا عمل ظاہر کرنا پسند نہ تھا۔
