صحیح بخاری حدیث ۴۱۲۸ - مشقت، اخلاص اور نیکی چھپانا

غزوہ ذات الرقاع کی مشقت اور نیک عمل چھپانے کا سبق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۲۸

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ , فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا وَنَقِبَتْ قَدَمَايَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي , وَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ , فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ مِنَ الْخِرَقِ عَلَى أَرْجُلِنَا , وَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا , ثُمَّ كَرِهَ ذَاكَ , قَالَ : مَا كُنْتُ أَصْنَعُ بِأَنْ أَذْكُرَهُ , كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ " .

ابوموسیٰ اشعری روایت:

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ کے لیے نکلے۔ ہم چھ ساتھی تھے اور ہم سب کے لیے صرف ایک اونٹ تھا ‘ جس پر باری باری ہم سوار ہوتے تھے۔ (پیدل طویل اور پر مشقت سفر کی وجہ سے) ہمارے پاؤں پھٹ گئے اور میرے بھی پاؤں پھٹ گئے تھے۔ ناخن بھی جھڑ گئے تھے۔ چنانچہ ہم قدموں پر کپڑے کی پٹی باندھ باندھ کر چل رہے تھے۔ اسی لیے اس کا نام غزوہ ذات الرقاع پڑا ‘ کیونکہ ہم نے قدموں کو پٹیوں سے باندھ رکھا تھا۔ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث تو بیان کر دی ‘ لیکن پھر ان کو اس کا اظہار اچھا نہیں معلوم ہوا۔ فرمانے لگے کہ مجھے یہ حدیث بیان نہ کرنی چاہیے تھی۔ ان کو اپنا نیک عمل ظاہر کرنا برا معلوم ہوا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۱۲۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع مشقت اور اخلاص ہے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے۔ چھ آدمیوں کے لیے ایک اونٹ تھا، اس پر باری باری سواری ہوتی تھی۔ پیدل چلنے سے پاؤں پھٹ گئے، ناخن گر گئے، اور صحابہ کپڑے کی پٹیاں پاؤں پر باندھ کر چلتے رہے۔ اسی وجہ سے اس غزوہ کو ذات الرقاع کہا گیا۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ ابو موسیٰؓ نے حدیث بیان کرنے کے بعد اپنے عمل کا ذکر پسند نہ کیا، گویا انہیں نیکی ظاہر کرنا اچھا نہ لگا۔ غزوہ ذات الرقاع وجہ تسمیہ، صحابہ کی مشقت، اور نیکی چھپانے کی حدیث اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دین کے کام میں صحابہؓ نے سخت سفر اور جسمانی تکلیف برداشت کی۔
  • ذات الرقاع کا نام پاؤں پر پٹیاں باندھنے سے متعلق بیان ہوا ہے۔
  • ابو موسیٰؓ کو اپنا نیک عمل ظاہر کرنا پسند نہ آیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں