صحیح بخاری حدیث ۶۴۶۵ - طاقت کے مطابق نیکی

طاقت کے مطابق نیکی: اللہ کو پسندیدہ عمل کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۶۵

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَدْوَمُهَا ، وَإِنْ قَلَّ ، وَقَالَ : اكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون سا عمل اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے؟ فرمایا کہ جس پر ہمیشگی کی جائے، خواہ وہ تھوڑی ہی ہو اور فرمایا نیک کام کرنے میں اتنی ہی تکلیف اٹھاؤ جتنی طاقت ہے (جو ہمیشہ نبھ سکے)۔

صحیح بخاری حدیث ۶۴۶۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اللہ کے نزدیک کون سا عمل زیادہ پسندیدہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جس پر ہمیشگی کی جائے، خواہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ پھر فرمایا کہ نیک کام کرنے میں اتنی ہی تکلیف اٹھاؤ جتنی طاقت ہے۔ یہ حدیث عبادت اور نیکی کے لیے بہت عملی اصول دیتی ہے۔ انسان کو ایسا کام شروع کرنا چاہیے جو وہ نبھا سکے۔ بہت زیادہ کام اپنے اوپر لازم کر لینا، پھر چھوڑ دینا، اس حدیث کے مزاج کے خلاف ہے۔ اصل بات مستقل مزاجی اور استطاعت ہے۔ تھوڑا ذکر، تھوڑی تلاوت، تھوڑا صدقہ یا کوئی بھی نیکی، اگر طاقت کے مطابق اور مسلسل ہو، تو یہ زیادہ مضبوط راستہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل وہ ہے جو جاری رہے۔
  • نیکی اپنی طاقت کے مطابق کرنی چاہیے۔
  • تھوڑا عمل بھی اہم ہے اگر مسلسل ہو۔
  • اپنے اوپر ایسا بوجھ نہ ڈالا جائے جو نبھ نہ سکے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں